شوق
92 Misre
- شوق فضول و جرأت رندانہ چاہیے
- خلوت بال و پر قمری میں وا کر راہ شوق
- پاے نظر بہ دامن شوق دویدہ کھینچ
- اے خار دشت دامن شوق رمیدہ کھینچ
- فانوس شمع ہے کفن کشتگان شوق
- نشان بے قرار شوق جز مژگاں نہیں باقی
- نگاہ شوق کو صحرا بھی دیوان غزالی ہے
- چشم گریاں بسمل شوق بہار دید ہے
- خاک عاشق بس کہ ہے فرسودۂ پرواز شوق
- کفر ہے غیر از وفور شوق رہبر ڈھونڈھنا
- در تپش آباد شوق سرمہ صدا نام ہے
- شوق مفت زندگی ہے اے بہ غفلت مردگاں
- شوق بے پروا کے ہاتھوں مثل ساز نا درست
- مگر وہ شوخ ہے طوفاں طراز شوق خونریزی
- اسدؔ جس شوق سے ذرے تپش فرسا ہوں روزن میں
- شوق دیدار بلا آئنہ ساماں نکلا
- گرمی شوق طلب ہے عین تا پاک وصال
- ہے تماشا حیرت آباد تغافل ہاے شوق
- خلوت دل میں نہ کر دخل بجز سجدہ شوق
- نہاں ہے مردمک میں شوق رخسار فروزاں سے
- شوق کرے جو سر گراں محمل خواب پا سمجھ
- فانوس شمع ہے کفن کشتگان شوق
- ہے ذرہ ذرہ تنگی جا سے غبار شوق
- گریہ سرشاری شوق بہ بیاباں زدہ ہے
- گریہ بے لذت کاوش نہ کرے جرأت شوق
- سبحہ واماندگی شوق و تماشا منظور
- نامۂ شوق بہ بال پر بسمل باندھا
- شوق عناں گسل اگر درس جنوں ہوس کرے
- شوق کو منفعل نہ کر ناز کو التجا سمجھ
- پیمانۂ وسعت کدۂ شوق ہوں اے رشک
- گر ہو بلد شوق مری خاک کو وحشت
- شوق سامان فضولی ہے وگرنہ غالب
- تمثال شوق بے باک صد جا دوچار صحرا
- اے واے غفلت نگہ شوق ورنہ یاں
- اے دل ناعاقبت اندیش ضبط شوق کر
- دیکھتا ہوں وحشت شوق خروش آمادہ سے
- اے وائے غفلت نگۂ شوق ورنہ یاں
- شوق عناں گسیختہ دریا کہیں جسے
- مرے دل میں ہے غالبؔ شوق وصل و شکوۂ ہجراں
- وائے دیوانگی شوق کہ ہر دم مجھ کو
- نگاہ شوق کو ہیں بال و پر در و دیوار
- نشان بے قرار شوق جز مژگاں نہیں باقی
- نگاہ شوق کو صحرا بھی دیوان غزالی ہے
- ہوا وصال سے شوق دل حریص زیادہ
- یعنی سبق شوق مکرر نہ ہوا تھا
- شوق کو پا بہ حنا باندھتے ہیں
- تپش شوق نے ہر ذرہ پہ اک دل باندھا
- یار نے تشنگیٔ شوق کے مضموں چاہے
- نامۂ شوق بہ حال دل بسمل باندھا
- ہے ذرہ ذرہ تنگئ جا سے غبار شوق
- ہے شرح شوق کو بھی جوں شکوہ ناتمامی
- بسکہ شوق آتش گل سے سراپا جل گیا
- شوق کو یہ لت کہ ہر دم نالہ کھینچے جائیے
- وعدۂ سیر گلستاں ہے خوشا طالع شوق
- شوق ہے ساماں طراز نازش ارباب عجز
- آتش موئے دماغ شوق ہے تیرا تپاک
- پوچھے ہے کیا وجود و عدم اہل شوق کا
- شب خمار شوق ساقی رستخیز اندازہ تھا
- شوق ہر رنگ رقیب سر و ساماں نکلا
- شوق دیدار بلا آئنہ ساماں نکلا
- شور رسوائی دل دیکھ کہ یک نالۂ شوق
- اسدؔ پردے میں بھی آہنگ شوق یار قائم ہے
- اے شوق ہاں اجازت تسلیم ہوش ہے
- خدا کے واسطے داد اس جنون شوق کی دینا
- وا کر دیے ہیں شوق نے بند نقاب حسن
- گر ترے دل میں ہو خیال وصل میں شوق کا زوال
- فانوس شمع ہے کفن کشتگان شوق
- بجز پرواز شوق ناز کیا باقی رہا ہوگا
- شوق اس دشت میں دوڑائے ہے مجھ کو کہ جہاں
- واماندگی شوق تراشے ہے پناہیں
- پھر شوق کر رہا ہے خریدار کی طلب
- جذبۂ بے اختیار شوق دیکھا چاہیے
- بہ قدر شوق نہیں ظرف تنگنائے غزل
- شوق گلچین گلستان تسلی نہ سہی
- مقطع سلسلۂ شوق نہیں ہے یہ شہر
- فرصت کاروبار شوق کسے
- صرصر شوق ہے بانی میری
- اے شوق منفعل یہ تجھے کیا خیال ہے
- گلہ ہے شوق کو دل میں بھی تنگئ جا کا
- شوق دیدار میں گر تو مجھے گردن مارے
- شوق فضول و جرأت رندانہ چاہیے
- زندۂ شوق شعر کو ایک چراغ انجمن
- طے کرو راہ شوق زودا زود
- قبلہ و ابروے بت یک رہ خوابیدۂ شوق
- کہ ہوا خوں نگہ شوق میں نقش تمکیں
- طبع کو الفت دلدل میں یہ سرگرمی شوق
- کوہ و صحرا ہمہ معموری شوق بلبل
- جاے حیرت ہے کہ گلبازی اندیشۂ شوق
- اے خوشا مکتب شوق و بلدستان مراد
- ہے نفس مایۂ شوق دو جہاں ریگ رواں
- دید تا دل اسدؔ آئینۂ یک پر تو شوق
- شوق ابھی سے ہے تجھے اشعار کا