شور
25 Misre
- شور تمثال ہے کس رشک چمن کا یارب
- شور حشر اس فتنہ قامت کے حضور
- کرنے نہ پائے ضعف سے شور جنوں اسدؔ
- دل میں پھر گریے نے اک شور اٹھایا غالبؔ
- شور ہے کس بزم کی عرض جراحت خانہ کا
- یاں سر پر شور بے خوابی سے تھا دیوار جو
- وحشت شور تماشا ہے کہ جوں نکہت گل
- شور تمثال ہے کس رشک چمن کا یا رب
- شر و شور آرزو سے تب و تاب عجز بہتر
- وائے واں بھی شور محشر نے نہ دم لینے دیا
- شور ہے کس بزم کی عرض جراحت خانہ كا
- شور جولاں تھا کنار بحر پر کس کا کہ آج
- فتنۂ شور قیامت کس کے آب و گل میں ہے
- یاں سر پر شور بے خوابی سے تھا دیوار جو
- دل میں پھر گریہ نے اک شور اٹھایا غالبؔ
- شور رسوائی دل دیکھ کہ یک نالۂ شوق
- وحشت خواب عدم شور تماشا ہے اسدؔ
- وحشت شور تماشا ہے کہ جوں نکہت گل
- سراغ آوارۂ عرض دو عالم شور محشر ہوں
- نکوہش مانع بے ربطی شور جنوں آئی
- شور سودائے خط و خال کہاں
- شور پند ناصح نے زخم پر نمک چھڑکا
- ہر سلح شور انگلستاں کا
- شر و شور آرزو سے تب و تاب عجز بہتر
- شور اوہام سے مت ہو شب خون انصاف