شوخیٔ
15 Misre
- یاں پشت چشم شوخیٔ قاتل ہے آئنہ
- کردنی ہے جمع تاب شوخیٔ دیدار دوست
- خانماں ہا پائمال شوخیٔ دعوے اسدؔ
- بذوق شوخیٔ اعضا تکلف بار بستر ہے
- بہ پاس شوخیٔ مژگاں سر ہر خار سوزن ہے
- ہے دل افسردہ داغ شوخیٔ مطلب اسدؔ
- شوخیٔ وحشت سے افسانہ فسون خواب تھا
- شوخیٔ بارش سے مہ فوارۂ سیماب تھا
- شوخیٔ رنگ حنا خون وفا سے کب تک
- عرض ناز شوخیٔ دنداں برائے خندہ ہے
- رہے یاں شوخیٔ رفتار سے پا آستانے میں
- نقش فریادی ہے کس کی شوخیٔ تحریر کا
- شوخیٔ نیرنگ صید وحشت طاؤس ہے
- قامت خم سے ہے حاصل شوخیٔ ابرو مجھے
- رگ بستر کو ملی شوخیٔ مژگاں مجھ سے