شوخی
56 Misre
- فسون حسن سے ہے شوخی گلگونہ آرائی
- رشتۂ پا شوخی بال نفس پیدا کرے
- دلائی شوخی اندیشہ تاب رنج نومیدی
- بہ پاس شوخی مژگاں سر ہر خار سوزن ہے
- بہ رہن شرم ہے با وصف شوخی اہتمام اس کا
- بذوق شوخی اعضا تکلف بار بستر ہے
- خانماں ہا پائمال شوخی دعوی ے اسدؔ
- ہوں گل فروش شوخی داغ کہن ہنوز
- جنبش موج صبا ہے شوخی رفتار باغ
- خیال شوخی خوباں کو راحت آفریں پایا
- شوخی چشم حبیب فتنۂ ایام ہے
- یک عمر ناز شوخی عنواں اٹھائیے
- ہے ہوس محمل بدوش شوخی ساقی مست
- چراغان نگاہ و شوخی اشک جگر گوں ہے
- سادگی یک خیال شوخی صد رنگ نقش
- شوخی تری کہہ دیتی ہے احوال ہمارا
- صفا و شوخی و انداز حسن پا بہ رکاب
- عرض ناز شوخی دنداں براے خندہ ہے
- رگ بستر کو ملی شوخی مژگاں مجھ سے
- شوخی سوزن ہے ساماں پیرہن کی فکر میں
- ہوا وہ شعلہ داغ اور شوخی خاشاک باقی ہے
- ہوئی ہے ناتوانی بے دماغ شوخی مطلب
- ہے دل افسردہ داغ شوخی مطلب اسدؔ
- جنوں افسردہ و جاں ناتواں اے جلوہ شوخی کر
- ہستی میں نہیں شوخی ایجاد صدا ہیچ
- بال پری بہ شوخی موج صبا گرو
- رہے یاں شوخی رفتار سے پا آستانے میں
- نالہ برخود غلط شوخی تاثیر آیا
- شوخی وحشت سے افسانہ فسون خواب تھا
- شوخی بارش سے مہ فوارۂ سیماب تھا
- شوخی نغمۂ بیدل نے جگایا ہے مجھے
- شوخی حسن و عشق ہے آئنہ دار ہمدگر
- شوخی مضراب جولاں آبیار نغمہ ہے
- شوخی فریاد سے ہے پدۂ زنبور گل
- راحت کمین شوخی تقریب نالہ ہے
- جنون قیس سے بھی شوخی لیلیٰ نمایاں ہے
- جو کچھ ہے محو شوخی ابروے یار ہے
- وا کرسکے یاں کون بجز کاوش شوخی
- حیراں ہوں شوخی رگ یاقوت دیکھ کر
- شوخی ایمان زاہد سستی تدبیر ہے
- شوخی تری کہہ دیتی ہے احوال ہمارا
- ہنس کے کرتا ہے بیان شوخی گفتار دوست
- اہل بینش نے بہ حیرت کدۂ شوخی ناز
- جو کچھ ہے محو شوخی ابروئے یار ہے
- تمثال میں تیری ہے وہ شوخی کہ بہ صد ذوق
- یک عمر ناز شوخی عنواں اٹھائیے
- اٹھے تھے سیر گل کو دیکھنا شوخی بہانے کی
- ہوں گل فروش شوخی داغ کہن ہنوز
- نہ لائی شوخی اندیشہ تاب رنج نومیدی
- نہ لائی شوخی اندیشہ تاب درد نومیدی
- بہ عجز آباد وہم مدعا تسلیم شوخی ہے
- شوخی اظہار کو جز وحشت مجنوں اسدؔ
- نکلتی ہے تپش میں بسملوں کی برق کی شوخی
- اس کی شوخی سے بہ حیرت کدہ نقش خیال
- شوخی عرض مطالب میں ہے گستاخ طلب
- جس ادب گاہ میں تو آئنہ شوخی ہو