شمع
116 Misre
- فانوس شمع کو پر پروانہ چاہیے
- شمع ہوں لیکن بپا در رفتہ خار جستجو
- شمع ہوں تو بزم میں جا پاؤں غالبؔ کی طرح
- نظر آتا ہے موے شیشہ رشتہ شمع بالیں کا
- لباس شمع پر عطر شب دیجور ملتے ہیں
- گداز شمع محفل پیچش طومار بستر ہے
- حیرت آئینۂ انجام جنوں ہوں جوں شمع
- شمع ساں ہوجاے قط خامۂ بہزاد گل
- لخت دل سے لاوے ہے شمع خیال آباد گل
- شمع خلوت خانہ کیجیے ہر چہ باد آباد گل
- خار شمع آئنہ آتش میں جوہر ہو گیا
- تار شمع آہنگ مضراب پر پروانہ تھا
- جوں زبان شمع داغ گرمی افسانہ ہم
- چپکے چپکے جلتے ہیں جوں شمع خلوت خانہ ہم
- برق سے کرتے ہیں روشن شمع ماتم خانہ ہم
- جوں شمع غوطہ داغ میں کھا گر وضو نہ ہو
- فانوس شمع ہے کفن کشتگان شوق
- ہے شمع جادہ داغ نے فروختن ہنوز
- وقت شب اس شمع رو کے شعلۂ آواز پر
- نیم رنگی ہاے شمع محفل خوباں سے ہے
- دود شمع کشتۂ گل بزم سامانی عبث
- عجب کہ پر تو خور شمع شبنمستاں ہے
- شمع آسا چہ سر دعوی و کو پاے ثبات
- شب ماتم تہ دامان دود شمع بالیں ہے
- شمع و گل تا کے پروانہ و بلبل تا چند
- نکالے کب نہال شمع بے تخم شرار آتش
- نہ نکلے شمع کے پاسے نکالے گر نہ خار آتش
- زبس ہر شمع یاں آئینۂ حیرت پرستی ہے
- غبار آلودہ ہیں جوں درد شمع کشتہ تقریریں
- ہر شمع شہادت کو ہے یاں سر بسر انگشت
- خامہ میرا شمع قبر کشتگاں کا دودہ ہے
- شمع سے جز عرض افسون گداز دل نہ پوچھ
- کہ شمع خانۂ دل آتش مے سے فروزاں کی
- کہ ہوتی ہے زیادہ سرد مہری شمع رویاں کی
- خور قطرۂ شبنم میں ہے جوں شمع بہ فانوس
- نمک ہے شمع میں جوں موم جادو خواب بستن کا
- فانوس شمع ہے کفن کشتگان شوق
- ہے شمع جادہ داغ ینفروختن ہنوز
- شمع ساں میں تہ دامان صبا جاتا ہوں
- چراغ گل سے ڈھونڈھے ہے چمن میں شمع خار اپنا
- یک نگاہ گرم ہے جوں شمع سر تا پا گداز
- پر پروانہ تار شمع پر مضراب ہوجاوے
- زبان شمع خلوت خانہ دیتی ہے جواب اس کا
- ذوق راحت اگر احرام تپش ہو جوں شمع
- رنگ روے شمع برق خرمن پروانہ تھا
- وہ دل سوزاں کہ کل تک شمع ماتم خانہ تھا
- شاخ گل جلتی تھی مثل شمع گل پروانہ تھا
- پروانے سے ہو شاید تسکین شعلۂ شمع
- میں بھی ہوں شمع کشتہ گر داغ خوں بہا ہے
- جوں نخل شمع ریشے میں نشو و نما گرو
- شعلۂ شمع پر افشان بخود لرزیدن
- تہ بال شمع حرم دیکھتے ہیں
- رکھو نہ شمع پہ اے اہل انجمن تکیہ
- یاں نفس کرتا تھا روشن شمع بزم بے خودی
- جوں شمع دل بخلوت جانا نہ کھینچیے
- محفل سے مگر شمع کو دل تنگ نکالوں
- جہاں شمع خموشی جلوہ گر ہے
- وہ تب عشق تمنا ہے کہ پھر صورت شمع
- ہر نہال شمع میں اک غنچۂ گل گیر ہے
- وصل میں وہ سوز شمع مجلس تقریر ہے
- شب دراز و آتش دل تیز یعنی مثل شمع
- پروانۂ تجلی شمع ظہور تھا
- اے شمع تجھے دعوی ثابت قدمی ہے
- چراغ گل سے ڈھونڈھے ہے چمن میں شمع خار اپنا
- ہر شمع شہادت کو ہے یاں سربسر انگشت
- انجمن بے شمع ہے گر برق خرمن میں نہیں
- دود شمع کشتہ تھا شاید خط رخسار دوست
- پروانۂ تجلی شمع ظہور تھا
- شمع ہر رنگ میں جلتی ہے سحر ہوتے تک
- شمع آسا چہ سر دعویٰ و کو پاۓ ثبات
- حیرت آئنہ انجام جنوں ہوں جیوں شمع
- فروغ شمع بالیں طالع بیدار بستر ہے
- گداز شمع محفل پیچش طومار بستر ہے
- شمع سے ہے بزم انگشت تحیر در دہن
- حسن فروغ شمع سخن دور ہے اسدؔ
- سر شمع نقش پا ہے بہ سپاس ناتوانی
- اس شمع کی طرح سے جس کو کوئی بجھا دے
- دل جوں شمع بہر دعوت نظارہ لایعنی
- نہ دیکھیں روئے یک دل سرد غیر از شمع کافوری
- شمع بجھتی ہے تو اس میں سے دھواں اٹھتا ہے
- شمع رویاں کی سر انگشت حنائی دیکھ کر
- کیا شمع کے نہیں ہیں ہوا خواہ بزم میں
- رخ نگار سے ہے سوز جاودانی شمع
- ہوئی ہے آتش گل آب زندگانی شمع
- یہ بات بزم میں روشن ہوئی زبانی شمع
- بہ طرز اہل فنا ہے فسانہ خوانی شمع
- ترے لرزنے سے ظاہر ہے نا توانی شمع
- بہ جلوہ ریزی باد و بہ پر فشانی شمع
- شگفتگی ہے شہید گل خزانی شمع
- نہ کیوں ہو دل پہ مرے داغ بد گمانی شمع
- یاں نفس کرتا تھا روشن شمع بزم بے خودی
- رشتۂ ہر شمع خار کسوت فانوس تھا
- اک شمع ہے دلیل سحر سو خموش ہے
- اک شمع رہ گئی ہے سو وہ بھی خموش ہے
- ہوں شمع کشتہ در خور محفل نہیں رہا
- برق سے کرتے ہیں روشن شمع ماتم خانہ ہم
- جوں زبان شمع داغ گرمی افسانہ ہم
- چپکے چپکے جلتے ہیں جوں شمع ماتم خانہ ہم
- فانوس شمع ہے کفن کشتگان شوق
- ہے شمع جادہ داغ نیفروختن ہنوز
- وہ تپ عشق تمنا ہے کہ پھر صورت شمع
- نہ نکلے شمع کے پا سے نکالے گر نہ خار آتش
- نکالے کیا نہال شمع بے تخم شرار آتش
- گر نہیں شمع سیہ خانۂ لیلی نہ سہی
- ہم نے وحشت کدۂ بزم جہاں میں جوں شمع
- ہو نگہ مثل گل شمع پریشاں مجھ سے
- ہے پیچ تاب رشتۂ شمع سحر گہی
- فانوس شمع کو پر پروانہ چاہیے
- کشتۂ ذوق شعر کو شمع سر مزار ایک
- شمع بزم سخن سرائی تھے
- سر شمع نقش پا ہے بسپاس ناتوانی
- شعلۂ شمع مگر شمع پہ باندھے آئیں
- فیض سے تیرے ہے اے شمع شبستان بہار
- ہر رات شمع شام سے لے تا سحر جلے
- کہ شمع انجمن کبریا کہیں اس کو
- جوں شمع آپ اپنی وہ خوراک ہو گئے