شمار
12 Misre
- انجام شمار غم نہ پوچھو
- شمار سبحہ مرغوب بت مشکل پسند آیا
- انجام شمار غم نہ پوچھو
- آتا ہے داغ حسرت دل کا شمار یاد
- لاکھوں ہی آفتاب ہیں اور بے شمار چاند
- کئی ہزار برس بلکہ بے شمار برس
- گرہ کی ہے یہی گنتی کہ تا بروز شمار
- یہ کہکشاں ہے کہ ہیں اس میں بے شمار گرہ
- ہوں بہ قدر عدد حرف علی سبحہ شمار
- اے کثرت فہم بے شمار اندیشہ
- اتنے ہی برس شمار ہوں بلکہ سوا
- سنین عمر کے ستر ہوئے شمار برس