شعلے
6 Misre
پر افشاں ہو گئے شعلے ہزاروں
کون ہے داغ کہ شعلے کا عناں گیر آوے
اس شعلے نے گلگوں کو جو گلشن میں کیا گرم
غم اس کو حسرت پروانہ کا ہے اے شعلے
شعلے سے نہ ہوتی ہوس شعلہ نے جو کی
اور شعلے کی زبانہ فارسی
ش
All Letters