شعاع
14 Misre
- جادۂ صحرائے آگاہی، شعاع جلوہ ہے
- ہے نفس تار شعاع آفتاب آئینے پر
- بس کہ ہریک موے زلف افشاں سے ہے تار شعاع
- شعاع مہر سے کرتا ہے چرخ زر دوزی
- شعاع مہر سے تہمت نگہ کہ چشم روزن پر
- ریگ روان و ہر تپش درس تسلی شعاع
- واں اسدؔ تار شعاع مہر خط جام ہے
- ہے شعاع مہر زنار سلیمانی مجھے
- شعاع آفتاب صبح محشر تار بستر ہے
- جادۂ رہ خور کو وقت شام ہے تار شعاع
- شعاع مہر سے تہمت نگہ کی چشم روزن پر
- بسکہ ہر یک موئے زلف افشاں سے ہے تار شعاع
- شعاع مہر درخشاں ہو اس کا تار نگاہ
- شمس سورج اور شعاع اس کی کرن