شرم
31 Misre
- سر بزانوے کرم رکھتی ہے شرم نا کسی
- خمیدن نشۂ مے میں ہے شرم زشت اعمالی
- غضب شرم آفریں ہے رنگ ریز بہائے خود بینی
- بہ رہن شرم ہے با وصف شوخی اہتمام اس کا
- بس کہ شرم عارض رنگیں سے حیرت جلوہ ہے
- شرم طوفان خزاں رنگ طرب گاہ بہار
- ہوئی ہیں آب شرم کوشش بے جا سے تدبیریں
- شرم آئینہ تراش جبہۂ طوفان ہے
- ہوا شرم تہہ دستی سے وہ بھی سر نگوں آخر
- بروے قیس دست شرم ہے مژگان آہو سے
- بہ کسوت عرق شرم قطرہ زن ہے خیال
- ہوے یہ رہرواں دل خستہ شرم نارسائی سے
- گرد ساحل ہے نم شرم جبین آشنا
- خوے شرم سرد بازاری ہے سیل خانماں
- اٹھاوے کب وہ جان شرم تہمت قتل عاشق کی
- تر جبیں رکھتی ہے شرم قطرہ سامانی مجھے
- شرم طوفان خزاں رنگ طرب گاہ بہار
- ساقی گری کی شرم کرو آج ورنہ ہم
- غضب شرم آفریں ہے رنگ ریزی ہائے خود بینی
- شرم رسوائی سے جا چھپنا نقاب خاک میں
- حسن اور اس پہ حسن ظن رہ گئی بوالہوس کی شرم
- یاں آ پڑی یہ شرم کہ تکرار کیا کریں
- رکھ لی مرے خدا نے مری بیکسی کی شرم
- رکھ لیجو میرے دعوی وارستگی کی شرم
- واں اس کو ہول دل ہے تو یاں میں ہوں شرم سار
- پئے نذر کرم تحفہ ہے شرم نا رسائی کا
- شرم ہے طرز تلاش انتخاب یک نگاہ
- شرم اک ادائے ناز ہے اپنے ہی سے سہی
- شرم تم کو مگر نہیں آتی
- تکلف ساز رسوائی ہے غافل شرم رعنائی
- شرم سے پانی پانی ہونا ہے