شرار
21 Misre
- نگیں میں جوں شرار سنگ ناپید ہے نام اس کا
- شرار سنگ بت بہر بناے اعتقاد آتش
- ہے شرار تیشہ بہر تربت فرہاد گل
- شرار آہ سے موج صبا دامان گلچیں ہے
- نکالے کب نہال شمع بے تخم شرار آتش
- تھا محمل نگاہ بدوش شرار حیف
- گھر پر پڑا نہ غیر کے کوئی شرار حیف
- شرار سنگ انداز چراغ از چشم جستن ہا
- شرار آسا زسنگ سرمہ یکسر بار جستن ہا
- شرار سنگ سے پادرحنا گلگون شیریں ہے
- تھا محمل نگاہ بہ دوش شرار حیف
- گھر پر پڑا نہ غیر کے کوئی شرار حیف
- شرار سنگ نے تربت پہ میری گل فشانی کی
- نکالے کیا نہال شمع بے تخم شرار آتش
- بے تکلف اے شرار جستہ کیا ہو جائیے
- جسے غم سمجھ رہے ہو یہ اگر شرار ہوتا
- خندۂ بے خودی کبک بدندان شرار
- تازہ ہے ریشۂ نارنج صفت روے شرار
- سینۂ سنگ پہ کھینچے ہے الف بال شرار
- رفتن رنگ حنا ہے تپش بال شرار
- بخیۂ زخم دل چاک بہ یک دستہ شرار