شبنم
37 Misre
- سیل بنائے مستی شبنم ہے آفتاب
- کہ گل ہے بلبل رنگین و بیضہ شبنم ہے
- بہر عرض حال شبنم سے رقم ایجاد گل
- چشم غفلت نظر شبنم خور نادیدہ
- چشم نرگس میں نمک بھرتی ہے شبنم سے بہار
- چشم شبنم میں نہ ٹوٹا مژہ خار ہنوز
- حب شبنم سے صبا ہر صبح کرتی ہے علاج
- خور قطرۂ شبنم میں ہے جوں شمع بہ فانوس
- صبح و شبنم فرصت نشو و نماے خندہ ہے
- لیکن عبث کہ شبنم خرشید دیدہ ہوں
- شبنم گداز آئنۂ اعتبار ہے
- چھڑکے ہے شبنم آئنۂ برگ گل پہ آب
- سراپا شبنم آئیں یک نگاہ پاک باقی ہے
- عرض شبنم سے چمن آئینہ تعمیر آیا
- کہ گوش گل نم شبنم سے پنبہ آگیں ہے
- خور شبنم آشنا نہ ہوا ورنہ میں اسدؔ
- شبنم آسا کو مجال سبحہ گردانی مجھے
- دیتا ہے اور جوں گل و شبنم بہار داغ
- مانند شبنم اشک ہیں مژگان خار کے
- پرتو خور سے ہے شبنم کو فنا کی تعلیم
- خور شبنم آشنا نہ ہوا ورنہ میں اسدؔ
- چھڑکے ہے شبنم آئینۂ برگ گل پر آب
- فشار تنگی خلوت سے بنتی ہے شبنم
- مانند شبنم اشک ہیں مژگان خار کے
- شبنم بہ گل لالہ نہ خالی ز ادا ہے
- صبح و شبنم فرصت نشو و نماۓ خندہ ہے
- میں ہوں وہ قطرۂ شبنم کہ ہو خار بیاباں پر
- حب شبنم سے صبا ہر صبح کرتی ہے علاج
- کہ گل ہے بلبل رنگین و بیضہ شبنم ہے
- چشم شبنم میں نہ ٹوٹا مژۂ خار ہنوز
- کہ گوش گل نم شبنم سے پنبہ آگیں ہے
- جلوۂ خور سے فنا ہوتی ہے شبنم غالبؔ
- کہ گوش گل نم شبنم سے پنبہ آگیں ہے
- سبزہ و برگ گل و لالہ پہ دیکھے شبنم
- کس قدر عرض کروں ساغر شبنم یارب
- شبنم صبح ہوئی رعشۂ اعضاے بہار
- نام گل کا پھول شبنم اوس ہے