شب
105 Misre
- زہے شب زندہ دار انتظارستاں کہ وحشت سے
- مجھے شب ہاے تاریک فراق شعلہ رویاں میں
- لباس شمع پر عطر شب دیجور ملتے ہیں
- شکست رنگ کی لائی سحر شب سنبل
- کہ شب خیال میں بوسوں کا ازدحام رہا
- نہ پوچھ حال شب و روز ہجر کا غالبؔ
- زمانے کے شب یلداسے موے سر پریشاں ہیں
- بہ شغل انتظار مہو شاں در خلوت شب ہا
- صافی رخ سے ترے ہنگام شب
- وقت شب اختر گنے ہے چشم بیدار رکاب
- شب کہ تھا نظارگی روے بتاں کا اے اسدؔ
- زلف سے شب درمیاں دادن نہیں ممکن دریغ
- رنگ شب تہ بندی دود چراغ خانہ تھا
- شب تری تاثیر سحر شعلۂ آواز سے
- تا دل شب آبنوسی شانہ آسا چاک ہے
- فرط بے خوابی سے ہیں شب ہاے ہجر یار میں
- زلف سیاہ بھی شب مہتاب ہو گئی
- گوہر شب تاب اشک دیدۂ خرشید ہے
- آتی نہیں نیند اے شب تار
- وقت شب اس شمع رو کے شعلۂ آواز پر
- اگی ہے دود جگر سے شب سیہ روزی
- سراغ خلوت شب ہاے تار رکھتے ہیں
- روز و شب یک کف افسوس تماشائی ہے
- شب ماتم تہ دامان دود شمع بالیں ہے
- کرمک شب تاب آسا مہ پر افشانی کرے
- اے شب پروانہ و روز وصال عندلیب
- آج کی شب چشم کو کب تک پریدن منع ہے
- یک جانب اے اسدؔ شب فرقت کا بیم ہے
- مری قسمت میں یوں تصویر ہے شب ہاے ہجراں کی
- بہ زلف مہ وشاں رہتی ہے شب بیدار ظاہر ہے
- شب کہ مست دیدن مہتاب تھا وہ جامہ زیب
- شب کہ وہ گل باغ میں تھا جلوہ فرما اے اسدؔ
- خود آرا وحشت چشم پری سے شب وہ بدخو تھا
- خم گیسو ہو شمشیر سیہ تاب اور شب کاٹے
- گداز دل کو کرتی ہے کشود چشم شب پیما
- نظر آتی نہیں صبح شب دیجور ہنوز
- نالۂ دل میں شب انداز اثر نایاب تھا
- سواد دیدۂ آہو شب مہتاب ہوجاوے
- ہے طلسم روز و شب کا در کھلا
- پھونکتا ہے نالہ ہر شب صور اسرافیل کی
- پاے خوابیدہ بہ دلجوئی شب گیر آوے
- شب کہ تھی کیفیّت محفل بیاد روے یار
- شب کہ باندھا خواب میں آنے کا قاتل نے جناح
- شب اختر قدح عیش نے محمل باندھا
- شب وصال میں مونس گیا ہے بن تکیہ
- شب فراق میں یہ حال ہے اذیت کا
- شب کہ دل زخمی عرض دو جہاں تیر آیا
- شب کہ ذوق گفتگو سے تیری دل بیتاب تھا
- شب کہ برق سوز دل سے زہرۂ ابر آب تھا
- نالۂ دل میں شب انداز اثر نایاب تھا
- توڑنا ہوتا ہے رنگ یک نفس ہر شب مجھے
- نالۂ دل بہ کمر دامن قطع شب تھا
- دل شب آئینہ دار تپش کوکب تھا
- شب دراز و آتش دل تیز یعنی مثل شمع
- تا قیامت شب فرقت میں گزر جائے گی عمر
- روز و شب یک کف افسوس تماشائی ہے
- زلف سے شب درمیاں دادن نہیں ممکن دریغ
- ہوتا ہے شب و روز تماشا مرے آگے
- آئی شب ہجراں کی تمنا مرے آگے
- شب ہوئی پھر انجم رخشندہ کا منظر کھلا
- کیوں اندھیری ہے شب غم ہے بلاؤں کا نزول
- نظر راحت پہ میری کر نہ وعدہ شب کے آنے کا
- کٹے تو شب کہیں کاٹے تو سانپ کہلاوے
- ہر شب پیا ہی کرتے ہیں مے جس قدر ملے
- کہ شب رو کا نقش قدم دیکھتے ہیں
- کس طرح کاٹے کوئی شب ہائے تار برشگال
- شب کو کسی کے خواب میں آیا نہ ہو کہیں
- شب کو ان کے جی میں کیا آئی کہ عریاں ہو گئیں
- پی جس قدر ملے شب مہتاب میں شراب
- شب خمار شوق ساقی رستخیز اندازہ تھا
- شب کہ برق سوز دل سے زہرۂ ابر آب تھا
- شب کہ ذوق گفتگو سے تیری دل بیتاب تھا
- شب کہ وہ مجلس فروز خلوت ناموس تھا
- ظلمت کدے میں میرے شب غم کا جوش ہے
- یا شب کو دیکھتے تھے کہ ہر گوشۂ بساط
- داغ فراق صحبت شب کی جلی ہوئی
- فرط بے خوابی سے ہیں شب ہاۓ ہجر یار میں
- تم ماہ شب چار دہم تھے مرے گھر کے
- مجھے شب ہائے تاریک فراق شعلہ رویاں میں
- شب ہائے ہجر کو بھی رکھوں گر حساب میں
- پیتا ہوں روز ابر و شب ماہتاب میں
- شب فراق سے روز جزا زیاد نہیں
- کوئی کہے کہ شب مہ میں کیا برائی ہے
- شب مہ ہو جو رکھ دوں پنبہ دیواروں کے روزن میں
- وہ شب و روز و ماہ و سال کہاں
- کرمک شب تاب آسا مہ پر افشانی کرے
- شب نظارہ پرور تھا خواب میں خیال اس کا
- گر نہ اندوہ شب فرقت بیاں ہو جائے گا
- وحشت آتش دل سے شب تنہائی میں
- بیکسی ہائے شب ہجر کی وحشت ہے ہے
- توڑنا ہوتا ہے رنگ یک نفس ہر شب مجھے
- کہوں کس سے میں کہ کیا ہے شب غم بری بلا ہے
- شور اوہام سے مت ہو شب خون انصاف
- کہ تابع اس کے ہوں روز و شب سپید و سیاہ
- شب و روز افتخار لیل و نہار
- جس نے برباد کیا ریشۂ چندیں شب تار
- شب کو تھا گنجینۂ گوہر کھلا
- واللہ کہ شب کو نیند آتی ہی نہیں
- ہے اب کے شب قدر و دوالی باہم
- شب زلف و رخ عرق فشاں کا غم تھا
- تا قیامت شب فرقت میں گزر جائے گی عمر
- ماہ چاند اختر ہیں تارے رات شب
- وصل کی شب اے بت بے پیر آدھی رہ گئی
- کس لیے تجھ سے چھپاؤں ہاں وہ پرسوں شب کی بات
- پاس میرے وہ جو آئے بھی تو بعد از نصف شب