شاید
9 Misre
- ناخن تیغ بتاں شاید کہ مضرابی کرے
- پروانے سے ہو شاید تسکین شعلۂ شمع
- شاید کہ مرگیا ترے رخسار دیکھ کر
- دود شمع کشتہ تھا شاید خط رخسار دوست
- شاید کہ مر گیا ترے رخسار دیکھ کر
- کہ چشم تنگ شاید کثرت نظارہ سے وا ہو
- پر پروانہ شاید بادبان کشتی مے تھا
- مرا دل مانگتے ہیں عاریت اہل ہوس شاید
- وحشتؔ و شیفتہؔ اب مرثیہ کہویں شاید