شام
26 Misre
- خیال زلف و رخ دوست صبح و شام رہا
- روز روشن شام آں سوے خیال
- شام غم میں سوز عشق آتش رخسار سے
- یعنی اے پیر فلک شام جوانی مفت ہے
- یہ شام غم آپ پر سحر کر
- ہوئی شام جوانی اے دل حسرت نصیب آخر
- شام ساے میں بہ تاراج سحر پنہاں ہے
- شام خیال زلف سے صبح دمیدہ ہوں
- صبح سے معلوم آثار ظہور شام ہے
- شام فراق یار میں جوش خیرہ سری سے ہم نے اسدؔ
- بہ طوفاں گاہ جوش اضطراب شام تنہائی
- جادۂ رہ خور کو وقت شام ہے تار شعاع
- جوئے خوں آنکھوں سے بہنے دو کہ ہے شام فراق
- ہوئی شام جوانی اے دل حسرت نصیب آخر
- شام غم میں سوز عشق آتش رخسار سے
- صبح کرنا شام کا لانا ہے جوئے شیر کا
- زہرہ گر ایسا ہی شام ہجر میں ہوتا ہے آب
- ہوں داغ نیم رنگیٔ شام وصال یار
- یہ دعا شام و سحر قاضی حاجات سے ہے
- صبح جو جائے اور آئے شام
- ماہ تاباں کا اسم شحنۂ شام
- اقلیم ہند و سند سے تا ملک روم و شام
- یہ چاہتے ہیں جہاں آفریں سے شام و پگاہ
- وہ آپ ہیں صبح و شام کرنے والے
- ہر رات شمع شام سے لے تا سحر جلے
- شام سے آتے تو کیا اچھی گزرتی رات سب