سے
1407 Misre
- ظاہر کرے ہے جنبش مژگاں سے مدعا
- آئی اگر بلا تو جگہ سے ٹلے نہیں
- ہوں منحرف نہ کیوں رہ و رسم ثواب سے
- غالبؔ کچھ اپنی سعی سے کہنا نہیں مجھے
- تھا خواب میں خیال کو تجھ سے معاملہ
- آنکھوں میں انتظار سے جاں پر شتاب ہے
- جوں نخل ماتم ابر سے مطلب نہیں مجھے
- تاثیر جستن اشک سے نقش بر آب ہے
- ظاہر ہے طرز قید سے صیاد کی غرض
- عہدے سے مدح ناز کے باہر نہ آسکا
- ظالم مرے گماں سے مجھے منفعل نہ چاہ
- غالبؔ ہے رتبہ فہم تصور سے کچھ پرے
- رنج طاقت سے سوا ہو تو نہ پیٹوں کیوں کر
- غیر سے دیکھیے کیا خوب نباہی اس نے
- نہ سہی ہم سے پر اس بت میں وفا ہے تو سہی
- اس لب سے مل ہی جائے گا بوسہ کبھی تو ہاں
- پیماں سے ہم گزر گئے پیمانہ چاہیے
- فسون حسن سے ہے شوخی گلگونہ آرائی
- زہے شب زندہ دار انتظارستاں کہ وحشت سے
- خوشا مستی کہ جوش حیرت انداز قاتل سے
- اب اس سے ربط کروں جو بہت ستمگر ہو
- امیدوار ہوں تاثیر تلخ کامی سے
- رچ گیا جوش صفا سے زلف کا اعضا میں عکس
- باج لیتی ہے گلستاں سے گل اندامی تری
- لیکن اس سے ناگوارا تر ہے بدنامی تری
- آسماں سے بادۂ گلفام گر برسا کرے
- ناتوانی سے نہیں سر در گریبانی اسدؔ
- نہیں کرنے کا ہیں تقریر ادب سے باہر
- اپنی ہستی سے ہوں بیزار کہوں یا نہ کہوں
- اپنے دل ہی سے میں احوال گرفتاری دل
- دل کے ہاتھوں سے کہ ہے دشمن جانی میرا
- آپ سے وہ مرا احوال نہ پوچھے تو اسدؔ
- کہ رگ سے سنگ میں تخم شرر کا ریشہ پیدا ہے
- عزیزو ذکر وصل غیر سے مجھ کو نہ بہلاؤ
- ہے رشتۂ جاں فرط کشش سے
- خال سیاہ رنگیں رخاں سے
- جوش جنوں سے جوں کسوت گل
- زندگی اپنی جب اس شکل سے گزری غالبؔ
- عیادت سے زبس ٹوٹا ہے دل یاران غمگیں کا
- چنے ہے کہکشاں خرمن سے مہ کے خوشہ پرویں کا
- کہ ضبط تپش سے شرر کار ہیں ہم
- ہجوم تمنا سے لاچار ہیں ہم
- نہ سووے آبلوں میں گر سر شک دیدۂ نم سے
- اسدؔ پاس تمنا سے نہ رکھ امید آزادی
- نہیں ہے خالی آرایش سے بے سامانی عاشق
- اسدؔ خوباں بھی دور چرخ سے رنجیدہ خاطر ہیں
- ہوا چرخ خمیدہ ناتواں بار علائق سے
- رہا کس جرم سے میں بیقرار داغ ہم طرحی
- سمندر کو پر پروانہ سے کافور ملتے ہیں
- کف گل برگ سے پاے دل رنجور ملتے ہیں
- ہوا نہ مجھ سے بجز درد حاصل صیاد
- دل و جگر تف فرقت سے جل کے خاک ہوئے
- اسدؔ سودائے سر سبزی سے ہے تسلیم رنگیں تر
- اسدؔ کو بت پرستی سے غرض درد آشنائی ہے
- کہ ہے دود چراغاں سے ہیولاے مداد آتش
- اسدؔ قدرت سے حیدر کی ہوئی ہر گبر و ترسا کو
- باغ تجھ بن گل نرگس سے ڈراتا ہے مجھے
- زندگی میں تو وہ محفل سے اٹھا دیتے تھے
- غافلاں نقصاں سے پیدا ہے کمال
- صافی رخ سے ترے ہنگام شب
- نور سے تیرے ہے اس کی روشنی
- بندھا ہے عقدۂ خاطر سے پیماں خاکساری کا
- نگہ کو آبلوں سے شغل ہے اختر شماری کا
- اسدؔ ساغر کش تسلیم ہو گردش سے گردوں کی
- وہ اک نگہ جو بظاہر نگاہ سے کم ہے
- بہر عرض حال شبنم سے رقم ایجاد گل
- غنچے سے منقار بلبل وار ہو فریاد گل
- دست رنگیں سے جو رخ پروا کرے زلف رسا
- لخت دل سے لاوے ہے شمع خیال آباد گل
- دولت نظارہ گل سے شفق سرمایہ ہے
- شورش باطن سے یاں تک مجھ کو غفلت ہے کہ آہ
- اے اسدؔ آباد ہے مجھ سے جہان شاعری
- بس کہ عاجز نارسائی سے کبوتر ہو گیا
- صورت دیبا تپش سے میری غرق خوں ہے آج
- بس کہ آئینے نے پایا گرمی رخ سے گداز
- شعلہ رخسارا تحیر سے تری رفتار کے
- بزم خوباں بس کہ جوش جلوہ سے پر نور ہے
- ہوں تصور ہاے ہمدوشی سے بدمست شراب
- ہے عجب مردوں کو غفلت ہاے اہل دہر سے
- واں سے ہے تکلیف عرض بیدماغی اور اسدؔ
- ہے عرق افشاں مشی سے ادہم مشکین یار
- بس کہ شرم عارض رنگیں سے حیرت جلوہ ہے
- گر گیا بام فلک سے صبح طشت ماہتاب
- بس کہ حیرت سے زپا افتادۂ زنہار ہے
- زلف سے شب درمیاں دادن نہیں ممکن دریغ
- جس کے جلوے سے زمیں تا آسماں سرشار ہے
- بس کہ ویرانی سے کفر و دیں ہوے زیر و زبر
- مجھ سے مت کہ تو ہمیں کہتا تھا اپنی زندگی
- زندگی سے بھی مرا جی ان دنوں بیزار ہے
- آگ سے پانی میں بجھتے وقت اٹھتی ہے صدا
- ہر کوئی درماندگی میں نالے سے ناچار ہے
- بس کہ جوش گریہ سے زیر و زبر ویرانہ تھا
- شب تری تاثیر سحر شعلۂ آواز سے
- حیرت اپنے نالۂ بیدرد سے غفلت بنی
- مدعی میری صفاے دل سے ہوتا ہے خجل
- دل کو توڑا جوش بیتابی سے غالب کیا کیا
- ریشے سے ہر تخم کا دلو اندرون چاہ ہے
- عکس گل ہاے سمن سے چشمہ ہاے باغ میں
- واں سے ہے تکلیف عرض بے دماغی ہاے دل
- بس کہ ہریک موے زلف افشاں سے ہے تار شعاع
- ہے فروغ ماہ سے ہر موج اک تصویر چاک
- سیل سے فرش کتاں کرتے ہیں تا ویرانہ ہم
- مشق از خود رفتگی سے ہیں بہ گلزار خیال
- فرط بے خوابی سے ہیں شب ہاے ہجر یار میں
- شام غم میں سوز عشق آتش رخسار سے
- برق سے کرتے ہیں روشن شمع ماتم خانہ ہم
- ضعف سے ہے نے قناعت سے یہ ترک جستجو
- رہتے ہیں افسردگی سے سخت بیدردانہ ہم
- حسرت عرض تمنا یاں سے سمجھا چاہئے
- نگہ کی ہم نے پیدا رشتۂ ربط علائق سے
- یک مشت خوں ہے پر تو خور سے تمام دشت
- برق بہار سے ہوں میں پادر حنا ہنوز
- چشم نرگس میں نمک بھرتی ہے شبنم سے بہار
- اے شعلہ فرصتے کہ سویدائے دل سے ہوں
- بلبلوں کو دور سے کرتا ہے منع بار باغ
- ہے دم سرد صبا سے گرمی بازار باغ
- کون گل سے ضعف و خاموشی بلبل کہہ سکے
- سیہ مستی ہے اہل خاک کو ابر بہاری سے
- زمیں جوش طرب سے جام لبریز سفالی ہے
- پرورش نالہ ہے وحشت پرواز سے
- کثرت اندوہ سے حیران و مضطر ہے اسدؔ
- دعوی عشق بتاں سے بہ گلستاں گل و صبح
- ساق گل رنگ سے اور آئنہ زانو سے
- ہیں دعا ہاے سحرگاہ سے خواہاں گل و صبح
- خانہ ہے سیل سے خو کردہ دیدار ہنوز
- آئی یک عمر سے معذور تماشا نرگس
- میں آپ سے جا چکا ہوں اب بھی
- درد اسم حق سے دیدار صنم حاصل ہوا
- محتسب سے تنگ ہے از بس کہ کار مے کشاں
- نیم رنگی ہاے شمع محفل خوباں سے ہے
- اگی اک پنبۂ روزن سے ہی چشم سفید آخر
- خضر کو چشمۂ آب بقا سے تر جبیں پایا
- پریشانی سے مغز سر ہوا ہے پنبہ بالش
- اسدؔ کو پیچ تاب طبع برق آہنگ مسکن سے
- دیکھیے مت چشم کم سے سوے ضبط افسردگاں
- خار سے گل سینہ افگار جفا ہے اے اسدؔ
- کوچۂ یار جو مجھ سے قدم چند رہا
- ہوا آئینۂ جام بادہ عکس روے گلگوں سے
- اب چار سوے عشق سے دوکاں اٹھائیے
- ضبط جنوں سے ہر سر مو ہے ترانہ خیز
- دیوار بار منت مزدور سے ہے خم
- انگور سعی بے سروپائی سے سبز ہے
- ہوسکے کیا خاک دست و بازوے فرہاد سے
- یعنی اس بیمار کو نظارے سے پرہیز ہے
- اگی ہے دود جگر سے شب سیہ روزی
- رہا میں ضعف سے شرمندۂ نو آموزی
- شعاع مہر سے کرتا ہے چرخ زر دوزی
- ہوا سکتے سے میں آئینۂ دست طبیب آخر
- رگ گل جادۂ تار نگہ سے حد موافق ہے
- غرور ضبط وقت نزع ٹوٹا بے قراری سے
- ستم کش مصلحت سے ہوں کہ خوباں تجھ پہ عاشق ہیں
- ہجوم ضبط فغاں سے مری زبان خموش
- طلسم منت یک خلق سے رہائی دی
- گیا جو نامہ بر واں سے برنگ باختہ آیا
- صدف سے آسیاے آب میں ہے دانہ گوہر کا
- ہوا ہے گریۂ بے باک ضبط سے تسبیح
- باغ خاموشی دل سے سخن عشق اسدؔ
- اگ رہا ہے در و دیوار سے سبزہ غالبؔ
- جنوں کی دستگیری کس سے ہو گر ہو نہ عریانی
- فلک سے ہم کو عیش رفتہ کا کیا کیا تقاضا ہے
- شعاع مہر سے تہمت نگہ کہ چشم روزن پر
- اسدؔ بسمل ہے کس انداز کا قاتل سے کہتا ہے
- گداے طاقت تقریر ہے زباں تجھ سے
- کہ خامشی کو ہے پیرایۂ بیاں تجھ سے
- فسردگی میں ہے فریاد بے دلاں تجھ سے
- چراغ صبح و گل موسم خزاں تجھ سے
- حناے پاے اجل خون کشتگاں تجھ سے
- نگاہ حیرت مشاطہ خوں فشاں تجھ سے
- بہار نالہ و رنگینی فغاں تجھ سے
- امید محو تماشاے گلستاں تجھ سے
- جبین سجدہ فشاں تجھ سے آستاں تجھ سے
- وفاے حوصلہ و رنج امتحاں تجھ سے
- خرام تجھ سے صبا تجھ سے گلستاں تجھ سے
- شرار آہ سے موج صبا دامان گلچیں ہے
- پیام تعزیت پیدا ہے انداز عیادت سے
- حنا سے دست و خون کشتگاں سے تیغ رنگیں ہے
- بے دلوں سے ہے تپش جوں خواہش آب از سراب
- گھر سے نکالنا ہے اگر ہاں نکالیے
- اک منہ ہے کون کون سے ارماں نکالیے
- نہیں ہے کف لب نازک پہ فرط نشہ مے سے
- اسدؔ جس شوق سے ذرے تپش فرسا ہوں روزن میں
- جراحت ہاے دل سے جوہر شمشیر ہے پیدا
- ہجوم برق سے چرخ و زمیں یک قطرۂ خوں ہے
- اے ادا فہماں صدا ہے تنگی فرصت سے خوں
- تیز تر ہوتا ہے خشم تند خو یاں عجز سے
- وقت اس افتادہ کا خوش جو قناعت سے اسد
- حیرت حسن چمن پیرا سے تیرے رنگ گل
- منع مت کر حسن کی ہم کو پرستش سے کہ ہے
- سر منزل ہستی سے ہے صحراے طلب دور
- نوک سر مژگاں سے رقم ہو گلۂ پا
- فریاد سے پیدا ہے اسدؔ گرمی وحشت
- جنبش دل سے ہوے ہیں عقدہ ہاے کار وا
- ہر عضو غم سے ہے شکن آسا شکستہ دل
- ہے چشم اشک ریز سے دریا شکستہ دل
- ناسازی نصیب درشتی غم سے ہے
- ہے سنگ ظلم چرخ سے میخانے میں اسدؔ
- نہ لبوے گر خس جوہر طراوت سبزۂ خط سے
- فروغ حسن سے ہوتی ہے حل مشکل عاشق
- دھویں سے آگ کے اک ابر دریا بار ہو پیدا
- اسدؔ حیدر پرستوں سے اگر ہووے دوچار آتش
- ہوئی ہیں آب شرم کوشش بے جا سے تدبیریں
- پر عنقا پہ رنگ رفتہ سے کھینچی ہیں تصویریں
- مژدۂ دیدار سے رسوائی اظہار دور
- بیم طبع نازک خوباں سے وقت سیر باغ
- مانگے ہے شمشاد سے شانۂ سنبل ہنوز
- شیشۂ بے بادہ سے چاہے ہے قلقل ہنوز
- اک سفیدی مارتی ہے دور سے چشم غزال
- جلوۂ خرشید سے ہے گرم پہلوے ہلال
- یک دست جہاں مجھ سے پھرا ہے مگر انگشت
- لکھتا ہوں اسدؔ سوزش دل سے سخن گرم
- قطرہ جو آنکھوں سے ٹپکا سو نگاہ آلودہ ہے
- تیرگی سے داغ کی مہ سیم مس اندودہ ہے
- جس طرف سے آئے ہیں آخر ادھر ہی جائیں گے
- مرگ سے وحشت نہ کر راہ عدم پیمودہ ہے
- کثرت انشاے مضمون تحیر سے اسدؔ
- جگر سے ٹوٹی ہوئی ہو گئی سناں پیدا
- بسان سبزہ رگ خواب سے زباں ایجاد
- خط سیاہ سے ہے گرد کارواں پیدا
- وگر نہ ہے خم تسلیم سے کماں پیدا
- زمیں سے ہوتے ہیں صد دامن آسماں پیدا
- کیا دے صدا کہ کلفت گم گشتگاں سے آہ
- کرنے نہ پائے ضعف سے شور جنوں اسدؔ
- کس جرم سے ہے چشم تجھے حسرت قبول
- عبرت سے پوچھ درد پریشانی نگاہ
- جوش دل ہے مجھ سے حسن فطرت بیدل نہ پوچھ
- قطرے سے میخانۂ دریاے بے ساحل نہ پوچھ
- شمع سے جز عرض افسون گداز دل نہ پوچھ
- بزم ہے یک پنبۂ مینا گداز ربط سے
- جنبش ہر برگ سے ہے گل کے لب کو اختلاج
- حب شبنم سے صبا ہر صبح کرتی ہے علاج
- چشم مست یار سے ہے گردن مینا پہ باج
- قہرمان عشق میں حسرت سے لیتے ہیں خراج
- تکلف بر طرف تجھ سے تری تصویر بہتر ہے
- کارخانے سے جنوں کے بھی میں عریاں نکلا
- تیر بھی سینۂ بسمل سے پر افشاں نکلا
- جو تری بزم سے نکلا سو پریشاں نکلا
- ہو گئے باہم دگر جوش پریشانی سے جمع
- کہ شمع خانۂ دل آتش مے سے فروزاں کی
- زبان شانہ سے تعبیر صد خواب پریشاں کی
- ہوا شرم تہہ دستی سے وہ بھی سر نگوں آخر
- جہان و اہل جہاں سے جہاں جہاں فریاد
- بروے قیس دست شرم ہے مژگان آہو سے
- کرے ہے رہرواں سے خضر راہ عشق جلادی
- غبار خط سے تعمیر بناے خانہ بربادی
- چنار آسا عدم سے بادل پر آتش آیا ہوں
- حیرت سے ترے جلوے کی از بس کہ ہیں بے کار
- زیادہ اس سے گرفتار ہوں کہ تو جانے
- زباں سے عرض تمناے خامشی معلوم
- خلق ہے صفحۂ عبرت سے سبق ناخواندہ
- کوئی آگاہ نہیں باطن ہم دیگر سے
- خوں ہے دل تنگی وحشت سے بیاباں میرا
- ذوق سرشار سے بے پردہ ہے طوفاں میرا
- خون آدینہ سے رنگیں ہے دبستاں میرا
- تیرے چہرے سے ہو ظاہر غم پنہاں میرا
- بوے یوسف مجھے گلزار سے آتی تھی اسدؔ
- داغ مہ جوش چمن سے لالۂ مہ ہو گیا
- اٹھا یاں سے نہ میرا آب و دانہ
- دل نالاں سے ہے بے پردہ پیدا
- خود آرا وحشت چشم پری سے شب وہ بدخو تھا
- خود آرائی سے آئینہ طلسم موم جادو تھا
- سر شک آگیں مژہ سے دست از جاں شستہ ابرو تھا
- گئے وہ دن کہ پانی جام مے سے زانو زانو تھا
- صدف دندان گوہر سے بہ حسرت اپنے لب کاٹے
- دریغا وہ مریض غم کہ فرط ناتوانی سے
- دم تیغ توکل سے اگر پاے سبب کاٹے
- ہوے یہ رہرواں دل خستہ شرم نارسائی سے
- کہ دست آرزو سے یک قلم پاے طلب کاٹے
- موج غبار سے پر یک دشت وا کروں
- آ اے بہار ناز کہ تیرے خرام سے
- جوں جادہ گر درہ سے نگہ سرمہ سا کروں
- افشاں غبار سرمہ سے فرد صدا کروں
- لوں دام بخت خفتہ سے یک خواب خوش ولے
- غالبؔ یہ خوف ہے کہ کہاں سے ادا کروں
- لیکن یہ ہم ہے کہ کہاں سے ادا کروں
- بہر جاں پروردن یعقوب بال چاک سے
- تسلیم سے یہ نالۂ موزوں ہوا حصول
- اشک جوں بیضۂ مژہ سے تہ پر پنہاں ہے
- خواب جمعیت مخمل ہے پریشاں مجھ سے
- رگ بستر کو ملی شوخی مژگاں مجھ سے
- کس قدر خانۂ آئینہ ہے ویراں مجھ سے
- عینک چشم بنا روزن زنداں مجھ سے
- چشم نکشودہ رہا عقدۂ پیماں مجھ سے
- آتش افروزی یک شعلۂ ایما تجھ سے
- چشمک آرائی صد شہر چراغاں مجھ سے
- کاش ہو قدرت برچیدن داماں مجھ سے
- ورنہ کیا ہو نہ سکے نالہ بساماں مجھ سے
- پیکاں سے تیرے جلوۂ زخم آشکار تھا
- کیا ہے ترک دنیا کاہلی سے
- ہمیں حاصل نہیں بے حاصلی سے
- بیاباں خوش ہوں تیری عاملی سے
- رہے ہم داغ اپنی کاہلی سے
- خدا یعنی پدر سے مہرباں تر
- پھرے ہم در بدر ناقابلی سے
- خبر لیتے ہیں لیکن بیدلی سے
- نہاں ہے مردمک میں شوق رخسار فروزاں سے
- ہوا نے ابر سے کی موسم گل میں نمد بانی
- ہر اشک چشم سے یک حلقۂ زنجیر بڑھتا ہے
- عیادت سے اسدؔ میں بیشتر بیمار ہوتا ہوں
- فریاد اسدؔ بے نگہی ہاے بتاں سے
- زخم لیکن داغ سے بہتر کھلا
- کب کمر سے غمزے کی خنجر کھلا
- دیکھیو غالبؔ سے گر الجھا کوئی
- یاں ہجوم عجز سے تا سجدہ ہے جولان عجز
- حسن کو غنچوں سے ہے پوشیدہ چشمی ہاے ناز
- عشق نے وا کی ہے ہر یک خار سے مژگان عجز
- پھر شیشے سے عطر شرر سنگ نکالوں
- جان جائے تو بلا سے پہ کہیں دل آئے
- دیدہ خونبار ہے مدت سے ولے آج ندیم
- زیست ان کی ہے جو اس کوچے سے گھائل آئے
- آج ہم حضرت نواب سے بھی مل آئے
- تم ہو بیداد سے خوش اس سے سوا اور سہی
- حسن میں حور سے بڑھ کر نہیں ہونے کے کبھی
- مجھ سے غالبؔ یہ علائیؔ نے غزل لکھوائی
- اے شعلۂ فرصتے کہ سویداے دل سے ہوں
- جس گزرگاہ سے میں آبلہ پا جاتا ہوں
- سرگراں مجھ سے سبک روکے نہ رہنے سے رہو
- تھا حریر سنگ سے قطع کفن کی فکر میں
- ہے ذرہ ذرہ تنگی جا سے غبار شوق
- منقار سے رکھتا ہوں بہم چاک قفس کو
- آئینہ نفس سے بھی ہوتا ہے کدورت کش
- ہوا داماندگی سے رہرواں کی فرق منزل کا
- تب سے ہے یاں دہن یار کا مذکور ہنوز
- اثر سرمے سے اور لب ہاے عاشق سے صدا گم ہو
- چراغ گل سے ڈھونڈھے ہے چمن میں شمع خار اپنا
- کہ تار جادہ سے ہے لجہ ریگ رواں خالی
- کرے ہے مغز سے مانند نے کے استخواں خالی
- مئے الفت سے ہے میناے سرو بوستاں خالی
- بھرا ہے دہر بے دردی سے دل کیجیے کہاں خالی
- سواد خط پیشانی سے نسخہ مومیائی کا
- مٹا جس سے تقاضا شکوۂ بے دست و پائی کا
- موج سے پیدا ہوئے پیراہن دریا میں خار
- بے خبر مت کہہ ہمیں بے درد خود بینی سے پوچھ
- مقدم سیلاب سے دل کیا نشاط آہنگ ہے
- رکھتے ہو مجھ سے اتنی کدورت ہزار حیف
- گھبرا رہی ہے بیم خزاں سے بہار حیف
- بیم رقیب سے نہیں کرتے وداع ہوش
- ہیں میری مشت خاک سے اس کو کدورتیں
- قیس بھاگا شہر سے شرمندہ ہو کر سوے دشت
- بن گیا تقلید سے میری یہ سودائی عبث
- مہ نو سے ہے رہزن دار نعل واژگوں باندھا
- خمار ضبط سے بھی نشۂ اظہار پیدا ہے
- فغان و آہ سے حاصل بجز درد سر یاراں
- دریغا بستن رخت سفر سے ہو کے میں غافل
- سیہ مستی چشم شوخ سے ہیں جوہر مژگاں
- ہوا نے ابر سے کی موسم گل میں نمد بانی
- زبس نکلا غبار دل بوقت گریہ آنکھوں سے
- شرار سنگ سے پادرحنا گلگون شیریں ہے
- ہوا ہر خلوت و جلوت سے حاصل ذوق تنہائی
- بنا ہے پنبۂ سینا سے ساقی نے نقاب اس کا
- کروں گا اشک ہاے وا چکیدہ سے حساب اس کا
- نے سبحہ سے علاقہ نہ ساغر سے واسطہ
- ہوں خاکسارپر نہ کسی سے ہے مجھ کو لاگ
- پانی سے سگ گزیدہ ڈرے جس طرح اسدؔ
- ڈرتا ہوں آئنے سے کہ مردم گزیدہ ہوں
- خامے سے پائی طبیعت نے مدد
- مدح سے ممدوح کی دیکھی شکوہ
- یاں عرض سے رتبۂ جوہر کھلا
- کی ہیں کس پانی سے یاں یعقوب نے آنکھیں سفید
- عرش پر تیرے قدم سے ہے دماغ گرد رہ
- وہ مرغ ہے خزاں کی صعوبت سے بے خبر
- موجۂ ریگ سے دل پاے بہ زنجیر آوے
- پروانے سے ہو شاید تسکین شعلۂ شمع
- رفتار سے شیرازۂ اجزاے قدم باندھ
- رہتے ہیں افسردگی سے سخت بیدر دانہ ہم
- حسرت عرض تمنا یاں سے سمجھا چاہیے
- مطلب ہے ربط سے رگ و پے کی خمیدگی
- گلشن کو رنگ گل سے ہے درخوں طپیدگی
- ہے فروغ رخ افروختہ خوباں سے
- بتاں زہراب اس شدت سے دو پیکان ناوک کو
- لگے گر سنگ سر پر یار کے دست نگاریں سے
- رگ ہر سنگ سے نبض دل بیمار ہو پیدا
- چیرے ہی سے جائیں گے یہ پھوڑے
- اندوہ سے ڈر کے منھ نہ موڑے
- دیوار سے اپنے سر کو پھوڑے
- سرشک آشفتہ سر تھا قطرہ زن مژگا ں سے جانے میں
- رہے یاں شوخی رفتار سے پا آستانے میں
- ہوئی یہ بیخودی چشم و زباں کو تیرے جلوے سے
- تعجب سے وہ بولا یوں بھی ہوتا ہے زمانے میں
- سوداے عشق سے دم سرد کشیدہ ہوں
- شام خیال زلف سے صبح دمیدہ ہوں
- دوران سر سے گردش ساغر ہے متصل
- ظاہر ہیں میری شکل سے افسوس کے نشاں
- خار الم سے پشت بدنداں گزیدہ ہوں
- ہوں گرمی نشاط تصور سے نغمہ سنج
- دیتا ہوں کشتگاں کو سخن سے سر تپش
- خون ہدہد سے لکھ نقش گرفتاروں کا
- مطرب دل نے مرے تار نفس سے غالبؔ
- خراج بادشہ چیں سے کیوں نہ مانگوں آج
- فروغ حسن سے روشن ہے خوابگاہ تمام
- اٹھا سکا نہ نزاکت سے گلبدن تکیہ
- اگرچہ پھینک دیا تم نے دور سے لیکن
- لگا کے بیٹھتے ہیں اس سے راہ زن تکیہ
- پر طاؤس سے دل پائے بہ زنجیر آیا
- عرض شبنم سے چمن آئینہ تعمیر آیا
- شب کہ ذوق گفتگو سے تیری دل بیتاب تھا
- شوخی وحشت سے افسانہ فسون خواب تھا
- شب کہ برق سوز دل سے زہرۂ ابر آب تھا
- گریے سے یاں پنبۂ بالش کف سیلاب تھا
- لے زمیں سے آسماں تک فرش تھیں بے تابیاں
- شوخی بارش سے مہ فوارۂ سیماب تھا
- یاں رواں مژگان چشم تر سے خون ناب تھا
- یاں سر پر شور بے خوابی سے تھا دیوار جو
- فرش سے تا عرش واں طوفان تھا موج رنگ کا
- یاں زمیں سے آسماں تک سوختن کا باب تھا
- ناگہاں اس رنگ سے خونابہ ٹپکانے لگا
- دل کہ ذوق کاوش ناخن سے لذت یاب تھا
- گرمیٔ برق تپش سے زہرٔ دل آب تھا
- موج سے پیدا ہوئے پیراہن دریا میں خار
- بے خبر مت کہہ ہمیں بے درد خود بینی سے پوچھ
- مقدم سیلاب سے دل کیا نشاط آہنگ ہے
- کرے ہے بادہ ترے لب سے کسب رنگ فروغ
- کہ گوش گل نم شبنم سے پنبہ آگیں ہے
- کہ ایک عمر سے حسرت پرست بالیں ہے
- ہوں میں وہ چاک کہ کانٹوں سے سلایا ہے مجھے
- جام ہر ذرہ ہے سرشار تمنا مجھ سے
- کس کا دل ہوں کہ دو عالم سے لگایا ہے مجھے
- جوش فریاد سے لوں گا دیت خواب اسدؔ
- مردمک سے ہے خال بر لب گور
- دوستو مجھ ستم رسیدہ سے
- کس سے اے غفلت تجھے تعبیر آگاہی ملے
- شوخی فریاد سے ہے پدۂ زنبور گل
- دل سے اٹھے ہے جو غبار گرد سواد باغ ہے
- شومی طالع سے ہوں ذوق معاصی میں اسیر
- صبح سے معلوم آثار ظہور شام ہے
- خمیازۂ خمار سے پیمانہ کھینچیے
- عجز و نیاز سے تو نہ آیا وہ راہ پر
- تا چند نفس غفلت ہستی سے بر آوے
- مطلب نہیں کچھ اس سے کہ مطلب ہی بر آوے
- کو تیزی رفتار کہ صحرا سے زمیں کو
- یک غنچہ سے صد خم مے گلرنگ نکالوں
- محفل سے مگر شمع کو دل تنگ نکالوں
- صحرا کو بھی گھر سے کئی فرسنگ نکالوں
- فریاد اسدؔ غفلت رسوائی دل سے
- تغافل مشربی سے ناتمامی بس کہ پیدا ہے
- جنون قیس سے بھی شوخی لیلیٰ نمایاں ہے
- رنگ نے گل سے دم عرض پریشانی بزم
- خواب صیاد سے پرواز گرانی مانگے
- تنک ظرفوں کا رتبہ جہد سے برتر نہیں ہوتا
- نہ رکھ چشم حصول نفع صحبت ہائے ممسک سے
- لب خشک صدف آب گہر سے تر نہیں ہوتا
- اے طفل خود معاملہ قد سے عصا بلند
- ویرانے سے جز آمد و رفت نفس نہیں
- مژگان باز ماندہ سے دست دعا بلند
- شرمندۂ الفت ہوں مداوا طلبی سے
- ہم آئے ہیں غالبؔ رہ اقلیم عدم سے
- عشاق اشک چشم سے دھوویں ہزار داغ
- جوں اعتماد نامہ و خط کا ہو مہر سے
- ہوتے ہیں محو جلوۂ خور سے ستارگاں
- دیکھ اس کو دل سے مٹ گئے بے اختیار داغ
- لخت جگر سے ہے رگ ہر خار شاخ گل
- نقصاں نہیں جنوں سے جو سودا کرے کوئی
- شوخ نے وقت حسن طرازی تمکیں سے آرام کیا
- شام فراق یار میں جوش خیرہ سری سے ہم نے اسدؔ
- نشۂ مے کے اتر جانے کے غم سے انگور
- بوسۂ لب سے ملی طبع کو کیفیت حال
- مے کشیدن سے مجھے نشّۂ تریاک چڑھا
- وہ نہا کر آب گل سے سایۂ گل کے تلے
- بال کس گرمی سے سکھلاتا تھا سنبل کے تلے
- کثرت جوش سویدا سے نہیں تل کی جگہ
- پے بمقصد بردنی ہے خضرمے سے اے اسدؔ
- عشق میں ہم نے ہی ابرام سے پرہیز کیا
- غیروں سے اسے گرم سخن دیکھ کے غالبؔ
- میں رشک سے جوں آتش خاموش رہا گرم
- یک گام بیخودی سے لوٹیں بہار صحرا
- اسدؔ نے کثرت دل ہاے خلق سے جانا
- ظاہر ہے ہم سے کلفت بخت سیاہ روز
- حسرت سے دیکھ رہتے ہیں ہم آب و رنگ گل
- ہم مشق فکر وصل و غم ہجر سے اسدؔ
- ضبط سے جوں مردمک اسپند اقامت گیر ہے
- گریے سے بند محبت میں ہوئی نام آوری
- ضبط سے مطلب بجز وارستگی دیگر نہیں
- دامن تمثال آب آئنہ سے تر نہیں
- ہے وطن سے باہر اہل دل کی قدر و منزلت
- عاجزی سے ظاہرا رتبہ کوئی برتر نہیں
- دگر نہ منزل حیرت سے کیا واقف ہیں مدہوشاں
- بہ ہنگام تصور ساغر زانو سے پیتا ہوں
- اس چشم سے ہنوز نگہ یادگار ہے
- بھونچال میں گرا تھا یہ آئینہ طاق سے
- آب ہوجاتے ہیں ننگ ہمت باطل سے مرد
- اسدؔ طبع متیں سے گر نکالوں شعر برجستہ
- درس تپش ہے برق کو اب جس کے نام سے
- قاصد کو اپنے ہاتھ سے گردن نہ ماریے
- کیا کیا خضر نے سکندر سے
- طوطی کو شش جہت سے مقابل ہے آئنہ
- دل ہی تو ہے سیاست درباں سے ڈر گیا
- میں اور جاؤں در سے ترے بن صدا کیے
- مقدور ہو تو خاک سے پوچھوں کہ اے لئیم
- بھولے سے اس نے سیکڑوں وعدے وفا کیے
- چراغ گل سے ڈھونڈھے ہے چمن میں شمع خار اپنا
- لکھتا ہوں اسدؔ سوزش دل سے سخن گرم
- یک دست جہاں مجھ سے پھرا ہے مگر انگشت
- گریہ نکالے ہے تیری بزم سے مجھ کو
- ہم سے عبث ہے گمان رنجش خاطر
- دل سے اٹھا لطف جلوہ ہائے معانی
- ضعف سے اے گریہ کچھ باقی مرے تن میں نہیں
- رونق ہستی ہے عشق خانہ ویراں ساز سے
- زخم سلوانے سے مجھ پر چارہ جوئی کا ہے طعن
- خوں بھی ذوق درد سے فارغ مرے تن میں نہیں
- پنبہ نور صبح سے کم جس کے روزن میں نہیں
- آمد خط سے ہوا ہے سرد جو بازار دوست
- یہ غزل اپنی مجھے جی سے پسند آتی ہے آپ
- ہے سوا نیزے پہ اس کے قامت نوخیز سے
- آتش مے سے بہار گرمیٔ بازار دوست
- نقش پا جو کان میں رکھتا ہے انگلی جادہ سے
- شیشے میں نبض پری پنہاں ہے موج بادہ سے
- دیکھتا ہوں وحشت شوق خروش آمادہ سے
- فال رسوائی سرشک سر بہ صحرا دادہ سے
- جوش نیرنگ بہار عرض صحرا دادہ سے
- جوش ویرانی ہے عشق داغ بیروں دادہ سے
- دیکھتے ہیں چشم از خواب عدم نکشادہ سے
- قاصد کو اپنے ہاتھ سے گردن نہ ماریے
- درس تپش ہے برق کو اب جس کے نام سے
- ایسا کہاں سے لاؤں کہ تجھ سا کہیں جسے
- سر پر ہجوم درد غریبی سے ڈالیے
- ہے چشم تر میں حسرت دیدار سے نہاں
- ہے انتظار سے شرر آباد رستخیز
- پرتو خور سے ہے شبنم کو فنا کی تعلیم
- غم ہستی کا اسدؔ کس سے ہو جز مرگ علاج
- باغ خاموشیٔ دل سے سخن عشق اسدؔ
- پیکاں سے تیرے جلوۂ زخم آشکار تھا
- آگ سے پانی میں بجھتے وقت اٹھتی ہے صدا
- ہر کوئی درماندگی میں نالہ سے ناچار ہے
- جس کے جلوے سے زمیں تا آسماں سرشار ہے
- مجھ سے مت کہہ تُو ہمیں کہتا تھا اپنی زندگی
- زندگی سے بھی مرا جی ان دنوں بے زار ہے
- بس کہ حیرت سے ز پا افتادۂ زنہار ہے
- زلف سے شب درمیاں دادن نہیں ممکن دریغ
- بسکہ ویرانی سے کفر و دیں ہوئے زیر و زبر
- نفرت کا گماں گزرے ہے میں رشک سے گزرا
- زندگی میں تو وہ محفل سے اٹھا دیتے تھے
- باغ تجھ بن گل نرگس سے ڈراتا ہے مجھے
- کھل گئی مانند گل سو جا سے دیوار چمن
- الفت گل سے غلط ہے دعوی وارستگی
- صاف ہے از بسکہ عکس گل سے گلزار چمن
- بس کہ پائی یار کی رنگیں ادائی سے شکست
- اس تکلف سے کہ گویا بت کدے کا در کھلا
- پر یہ کیا کم ہے کہ مجھ سے وہ پری پیکر کھلا
- زلف سے بڑھ کر نقاب اس شوخ کے منہ پر کھلا
- نامہ لاتا ہے وطن سے نامہ بر اکثر کھلا
- رہے اس شوخ سے آزردہ ہم چندے تکلف سے
- مئے عشرت کی خواہش ساقی گردوں سے کیا کیجے
- خدا وہ دن کرے جو اس سے میں یہ بھی کہوں وہ بھی
- در و دیوار سے ٹپکے ہے بیاباں ہونا
- کی مرے قتل کے بعد اس نے جفا سے توبہ
- شہپر رنگ سے ہے بال کشا موج شراب
- موجۂ گل سے چراغاں ہے گزر گاہ خیال
- موجۂ سبزۂ نو خیز سے تا موج شراب
- سر سے گزرے پہ بھی ہے بال ہما موج شراب
- چار موج اٹھتی ہے طوفان طرب سے ہر سو
- بلا سے ہیں جو یہ پیش نظر در و دیوار
- وہ آ رہا مرے ہم سایے میں تو سائے سے
- نہ کہہ کسی سے کہ غالبؔ نہیں زمانے میں
- بیم رقیب سے نہیں کرتے وداع ہوش
- رکھتے ہو مجھ سے اتنی کدورت ہزار حیف
- گھبرا رہی ہے بیم خزاں سے بہار حیف
- ہیں میری مشت خاک سے اس کو کدورتیں
- بے اعتدالیوں سے سبک سب میں ہم ہوئے
- تیری وفا سے کیا ہو تلافی کہ دہر میں
- تیرے سوا بھی ہم پہ بہت سے ستم ہوئے
- اللہ رے تیری تندی خو جس کے بیم سے
- میرے پتے سے خلق کو کیوں تیرا گھر ملے
- تجھ سے تو کچھ کلام نہیں لیکن اے ندیم
- فرصت کشاکش غم پنہاں سے گر ملے
- رہا آباد عالم اہل ہمت کے نہ ہونے سے
- سیہ مستی ہے اہل خاک کو ابر بہاری سے
- زمیں جوش طرب سے جام لبریز سفالی ہے
- حذر کرو مرے دل سے کہ اس میں آگ دبی ہے
- ہوا وصال سے شوق دل حریص زیادہ
- تم جانو تم کو غیر سے جو رسم و راہ ہو
- بچتے نہیں مواخذۂ روز حشر سے
- توفیق باندازۂ ہمت ہے ازل سے
- میں سادہ دل آرزدگئ یار سے خوش ہوں
- دریائے معاصی تنک آبی سے ہوا خشک
- جاری تھی اسدؔ داغ جگر سے مری تحصیل
- تپش سے میری وقف کشمکش ہر تار بستر ہے
- ابھی آتی ہے بو بالش سے اس کی زلف مشکیں کی
- کہ بیتابی سے ہر یک تار بستر خار بستر ہے
- قید ہستی سے رہائی معلوم
- نشۂ رنگ سے ہے واشد گل
- ہم سے پیمان وفا باندھتے ہیں
- کس کا دل زلف سے بھاگا کہ اسدؔ
- چرخ وا کرتا ہے ماہ نو سے آغوش وداع
- شمع سے ہے بزم انگشت تحیر در دہن
- عقل کے نقصاں سے اٹھتا ہے خیال انتفاع
- مطرب دل نے مرے تار نفس سے غالبؔ
- نوک ہر خار سے تھا بسکہ سر دزدیٔ زخم
- مشکل کہ تجھ سے راہ سخن وا کرے کوئی
- رونے سے اے ندیم ملامت نہ کر مجھے
- چاک جگر سے جب رہ پرسش نہ وا ہوئی
- لخت جگر سے ہے رگ ہر خار شاخ گل
- نقصاں نہیں جنوں سے جو سودا کرے کوئی
- سر بر ہوئی نہ وعدۂ صبر آزما سے عمر
- مہ اختر فشاں کی بہر استقبال آنکھوں سے
- تغافل بد گمانی بلکہ میری سخت جانی سے
- تھا خواب میں خیال کو تجھ سے معاملہ
- جس بزم میں تو ناز سے گفتار میں آوے
- تو اس قد دل کش سے جو گلزار میں آوے
- کانٹوں کی زباں سوکھ گئی پیاس سے یا رب
- مر جاؤں نہ کیوں رشک سے جب وہ تن نازک
- کیوں شاہد گل باغ سے بازار میں آوے
- آتش کدہ ہے سینہ مرا راز نہاں سے
- ہے ذرہ ذرہ تنگئ جا سے غبار شوق
- کیوں ڈرتے ہو عشاق کی بے حوصلگی سے
- صد حیف وہ ناکام کہ اک عمر سے غالبؔ
- کشاکش ہاۓ ہستی سے کرے کیا سعی آزادی
- پریشاں تر ہے موئے خامہ سے تدبیر مانی کی
- جنوں کی دستگیری کس سے ہو گر ہو نہ عریانی
- فلک سے ہم کو عیش رفتہ کا کیا کیا تقاضا ہے
- شعاع مہر سے تہمت نگہ کی چشم روزن پر
- اسدؔ بسمل ہے کس انداز کا قاتل سے کہتا ہے
- مجھے اس سے کیا توقع بہ زمانۂ جوانی
- نہ رکھ آپ سے تعلق مگر ایک بد گمانی
- شر و شور آرزو سے تب و تاب عجز بہتر
- مجھے بادۂ طرب سے بہ خمار گاہ قسمت
- ہمہ یک نفس تپش سے تب و تاب ہجر مت پوچھ
- جور سے باز آئے پر باز آئیں کیا
- موج خوں سر سے گزر ہی کیوں نہ جائے
- آستان یار سے اٹھ جائیں کیا
- ترے سرو قامت سے اک قد آدم
- تجھے کس تمنا سے ہم دیکھتے ہیں
- سراغ تف نالہ لے داغ دل سے
- حاصل سے ہاتھ دھو بیٹھ اے آرزو خرامی
- اس شمع کی طرح سے جس کو کوئی بجھا دے
- طرف سخن نہیں ہے مجھ سے خدا نہ کردہ
- ہے نامہ بر کو اس سے دعوائے ہم کلامی
- ہے یاس میں اسدؔ کو ساقی سے بھی فراغت
- دریا سے خشک گزرے مستوں کی تشنہ کامی
- اڑی ہے صفحۂ خاطر سے صورت پرواز
- ہجوم فکر سے دل مثل موج لرزے ہے
- اسدؔ سے ترک وفا کا گماں وہ معنی ہے
- کہ کھینچیے پر طائر سے صورت پرواز
- حسد سے دل اگر افسردہ ہے گرم تماشا ہو
- کہ چشم تنگ شاید کثرت نظارہ سے وا ہو
- مرا حاصل وہ نسخہ ہے کہ جس سے خاک پیدا ہو
- حسن غمزے کی کشاکش سے چھٹا میرے بعد
- بارے آرام سے ہیں اہل جفا میرے بعد
- شمع بجھتی ہے تو اس میں سے دھواں اٹھتا ہے
- نگہ ناز ہے سرمے سے خفا میرے بعد
- چاک ہوتا ہے گریباں سے جدا میرے بعد
- غم سے مرتا ہوں کہ اتنا نہیں دنیا میں کوئی
- اس سے میرا مہہ خورشید جمال اچھا ہے
- اور بازار سے لے آئے اگر ٹوٹ گیا
- ساغر جم سے مرا جام سفال اچھا ہے
- ان کے دیکھے سے جو آ جاتی ہے منہ پر رونق
- دیکھیے پاتے ہیں عشاق بتوں سے کیا فیض
- ہم سخن تیشہ نے فرہاد کو شیریں سے کیا
- پڑا رہ اے دل وابستہ بیتابی سے کیا حاصل
- ہر اک سے پوچھتا ہوں کہ جاؤں کدھر کو میں
- نگاہ دل سے ترے سرمہ سا نکلتی ہے
- فشار تنگی خلوت سے بنتی ہے شبنم
- نہ پوچھ سینۂ عاشق سے آب تیغ نگاہ
- کہ زخم روزن در سے ہوا نکلتی ہے
- دہان مار سے گویا صبا نکلتی ہے
- کیوں گردش مدام سے گھبرا نہ جاے دل
- رکھتے ہو تم قدم مری آنکھوں سے کیوں دریغ
- رتبے میں مہر و ماہ سے کم تر نہیں ہوں میں
- ہر بن مو سے دم ذکر نہ ٹپکے خوں ناب
- درد سے میرے ہے تجھ کو بے قراری ہائے ہائے
- یعنی تجھ سے تھی اسے نا سازگاری ہائے ہائے
- شرم رسوائی سے جا چھپنا نقاب خاک میں
- اٹھ گئی دنیا سے راہ و رسم یاری ہائے ہائے
- ہاتھ ہی تیغ آزما کا کام سے جاتا رہا
- دل سے تری نگاہ جگر تک اتر گئی
- مستی سے ہر نگہ ترے رخ پر بکھر گئی
- جنبش دل سے ہوئے ہیں عقدہ ہائے کار وا
- دل مرا سوز نہاں سے بے محابا جل گیا
- میں عدم سے بھی پرے ہوں ورنہ غافل بارہا
- میری آہ آتشیں سے بال عنقا جل گیا
- دود میرا سنبلستاں سے کرے ہے ہم سری
- بسکہ شوق آتش گل سے سراپا جل گیا
- سبزہ و گل کہاں سے آئے ہیں
- ہم کو ان سے وفا کی ہے امید
- دل ہی تو ہے نہ سنگ و خشت درد سے بھر نہ آئے کیوں
- موت سے پہلے آدمی غم سے نجات پائے کیوں
- غالبؔ خستہ کے بغیر کون سے کام بند ہیں
- بے نیازی حد سے گزری بندہ پرور کب تلک
- خانہ زاد زلف ہیں زنجیر سے بھاگیں گے کیوں
- ہیں گرفتار وفا زنداں سے گھبراویں گے کیا
- اڑنے سے پیشتر بھی مرا رنگ زرد تھا
- رکھتا ہے ضد سے کھینچ کے باہر لگن کے پاؤں
- دی سادگی سے جان پڑوں کوہ کن کے پاؤں
- تن سے سوا فگار ہیں اس خستہ تن کے پاؤں
- بیچارہ کتنی دور سے آیا ہے شیخ جی
- سبزۂ خط سے ترا کاکل سرکش نہ دبا
- میں نے چاہا تھا کہ اندوہ وفا سے چھوٹوں
- کس سے محرومیٔ قسمت کی شکایت کیجے
- مر گیا صدمۂ یک جنبش لب سے غالبؔ
- ناتوانی سے حریف دم عیسی نہ ہوا
- نہ ہوئی ہم سے رقم حیرت خط رخ یار
- قضا سے شکوہ ہمیں کس قدر ہے کیا کہئے
- ہمیں جواب سے قطع نظر ہے کیا کہئے
- دیوانگی سے دوش پہ زنار بھی نہیں
- شوریدگی کے ہاتھ سے ہے سر وبال دوش
- یاں دل میں ضعف سے ہوس یار بھی نہیں
- ڈر نالہ ہائے زار سے میرے خدا کو مان
- دل میں ہے یار کی صف مژگاں سے روکشی
- میں اسے دیکھوں بھلا کب مجھ سے دیکھا جائے ہے
- ہاتھ دھو دل سے یہی گرمی گر اندیشے میں ہے
- آبگینہ تندی صہبا سے پگھلا جائے ہے
- دل کی وہ حالت کہ دم لینے سے گھبرا جائے ہے
- دور چشم بد تری بزم طرب سے واہ واہ
- سایہ میرا مجھ سے مثل دود بھاگے ہے اسدؔ
- پاس مجھ آتش بجاں کے کس سے ٹھہرا جائے ہے
- عرش سے ادھر ہوتا کاش کے مکاں اپنا
- ننگ سجدہ سے میرے سنگ آستاں اپنا
- کس رعونت سے وہ کہتے ہیں کہ ہم حور نہیں
- تو تغافل میں کسی رنگ سے معذور نہیں
- رخ نگار سے ہے سوز جاودانی شمع
- ترے لرزنے سے ظاہر ہے نا توانی شمع
- ترے خیال سے روح اہتزاز کرتی ہے
- رشک کہتا ہے کہ اس کا غیر سے اخلاص حیف
- سنگ سے سر مار کر ہووے نہ پیدا آشنا
- خود پرستی سے رہے باہم دگر نا آشنا
- مینائے مے ہے سرو نشاط بہار سے
- مانا کہ تیرے رخ سے نگہ کامیاب ہے
- گزرا اسدؔ مسرت پیغام یار سے
- ظاہر ہے طرز قید سے صیاد کی غرض
- رونے سے اور عشق میں بے باک ہو گئے
- رسوائے دہر گو ہوئے آوارگی سے تم
- کرنے گئے تھے اس سے تغافل کا ہم گلہ
- اس رنگ سے اٹھائی کل اس نے اسدؔ کی نعش
- زخم سے گرتا تو میں پلکوں سے چنتا تھا نمک
- زور نسبت مے سے رکھتا ہے اضارا کا نمک
- زندگی اپنی جب اس شکل سے گزری غالبؔ
- گرچہ ہے کس کس برائی سے ولے باایں ہمہ
- ذکر میرا مجھ سے بہتر ہے کہ اس محفل میں ہے
- سب رقیبوں سے ہوں نا خوش پر زنان مصر سے
- جوئے خوں آنکھوں سے بہنے دو کہ ہے شام فراق
- ان پری زادوں سے لیں گے خلد میں ہم انتقام
- قدرت حق سے یہی حوریں اگر واں ہو گئیں
- جو مری کوتاہیٔ قسمت سے مژگاں ہو گئیں
- رنج سے خوگر ہوا انساں تو مٹ جاتا ہے رنج
- ستم کش مصلحت سے ہوں کہ خوباں تجھ پہ عاشق ہیں
- ہوا سکتے سے میں آئینۂ دست طبیب آخر
- رگ گل جادۂ تار نگہ سے حد موافق ہے
- غرور ضبط وقت نزع ٹوٹا بے قراری سے
- ہوا واماندگی سے رہ رواں کی فرق منزل کا
- تیرے چہرے سے ہو ظاہر غم پنہاں میرا
- خوں ہے دل تنگی وحشت سے بیاباں میرا
- ذوق سرشار سے بے پردہ ہے طوفاں میرا
- خون آدینہ سے رنگیں ہے دبستاں میرا
- بوئے یوسف مجھے گلزار سے آتی تھی اسدؔ
- سرگشتگی میں عالم ہستی سے یاس ہے
- ہے وہ غرور حسن سے بیگانۂ وفا
- ہر اک مکان کو ہے مکیں سے شرف اسدؔ
- ظاہر ہے ہم سے کلفت بخت سیاہ روز
- حسرت سے دیکھ رہتے ہیں ہم آب و رنگ گل
- ہم مشق فکر وصل و غم ہجر سے اسدؔ
- یک قدم وحشت سے درس دفتر امکاں کھلا
- شب کہ برق سوز دل سے زہرۂ ابر آب تھا
- گریہ سے یاں پنبۂ بالش کف سیلاب تھا
- یاں رواں مژگان چشم تر سے خون ناب تھا
- یاں سر پر شور بے خوابی سے تھا دیوار جو
- فرش سے تا عرش واں طوفاں تھا موج رنگ کا
- یاں زمیں سے آسماں تک سوختن کا باب تھا
- ناگہاں اس رنگ سے خوں نابہ ٹپکانے لگا
- دل کہ ذوق کاوش ناخن سے لذت یاب تھا
- شب کہ ذوق گفتگو سے تیری دل بیتاب تھا
- شوخیٔ وحشت سے افسانہ فسون خواب تھا
- لے زمیں سے آسماں تک فرش تھیں بیتابیاں
- شوخیٔ بارش سے مہ فوارۂ سیماب تھا
- مشہد عاشق سے کوسوں تک جو اگتی ہے حنا
- شعلے سے نہ ہوتی ہوس شعلہ نے جو کی
- بیگانگی خلق سے بیدل نہ ہو غالبؔ
- روانی ہائے موج خون بسمل سے ٹپکتا ہے
- ہوئی جس کو بہار فرصت ہستی سے آگاہی
- تیر بھی سینۂ بسمل سے پرافشاں نکلا
- جو تری بزم سے نکلا سو پریشاں نکلا
- کارخانے سے جنوں کے بھی میں عریاں نکلا
- شوخیٔ رنگ حنا خون وفا سے کب تک
- پیشوا لینے مجھے گھر سے بیاباں نکلا
- شکوے کے نام سے بے مہر خفا ہوتا ہے
- پر ہوں میں شکوے سے یوں راگ سے جیسے باجا
- شکوۂ جور سے سرگرم جفا ہوتا ہے
- خوب تھا پہلے سے ہوتے جو ہم اپنے بد خواہ
- نالہ جاتا تھا پرے عرش سے میرا اور اب
- تیرے اکرام کا حق کس سے ادا ہوتا ہے
- ہر مہینے میں جو یہ بدر سے ہوتا ہے ہلال
- دیوار بار منت مزدر سے ہے خم
- اب چار سوئے عشق سے دوکاں اٹھائیے
- ضبط جنوں سے ہر سر مو ہے ترانہ خیز
- انگور سعی بے سر و پائی سے سبز ہے
- ہوا مہ کثرت سرمایہ اندوزی سے تنگ آخر
- نہیں ہے نغمے سے خالی خمیدن ہائے چنگ آخر
- آتے ہیں غیب سے یہ مضامیں خیال میں
- عجب نشاط سے جلاد کے چلے ہیں ہم آگے
- کہ اپنے سائے سے سر پاؤں سے ہے دو قدم آگے
- کہ اس کے در پہ پہنچتے ہیں نامہ بر سے ہم آگے
- لیکن ترے خیال سے غافل نہیں رہا
- دل سے ہوائے کشت وفا مٹ گئی کہ واں
- بیداد عشق سے نہیں ڈرتا مگر اسدؔ
- درد کا حد سے گزرنا ہے دوا ہو جانا
- تجھ سے قسمت میں مری صورت قفل ابجد
- اب جفا سے بھی ہیں محروم ہم اللہ اللہ
- ضعف سے گریہ مبدل بہ دم سرد ہوا
- دل سے مٹنا تری انگشت حنائی کا خیال
- ہو گیا گوشت سے ناخن کا جدا ہو جانا
- عشق تاثیر سے نومید نہیں
- گردش رنگ طرب سے ڈر ہے
- قطع کیجے نہ تعلق ہم سے
- غیر کو تجھ سے محبت ہی سہی
- اپنی ہستی ہی سے ہو جو کچھ ہو
- یار سے چھیڑ چلی جائے اسدؔ
- عہدے سے مدح ناز کے باہر نہ آ سکا
- ظالم مرے گماں سے مجھے منفعل نہ چاہ
- غالبؔ ہے رتبہ فہم تصور سے کچھ پرے
- بزم قدح سے عیش تمنا نہ رکھ کہ رنگ
- شرمندگی سے عذر نہ کرنا گناہ کا
- مقتل کو کس نشاط سے جاتا ہوں میں کہ ہے
- پر گل خیال زخم سے دامن نگاہ کا
- ہر گام آبلے سے ہے دل در تہ قدم
- غم دنیا سے گر پائی بھی فرصت سر اٹھانے کی
- بدی کی اس نے جس سے ہم نے کی تھی بارہا نیکی
- برق سے کرتے ہیں روشن شمع ماتم خانہ ہم
- ضعف سے ہے نے قناعت سے یہ ترک جستجو
- بسکہ ہر یک موئے زلف افشاں سے ہے تار شعاع
- ہے فروغ ماہ سے ہر موج اک تصویر چاک
- سیل سے فرش کتاں کرتے ہیں تا ویرانہ ہم
- مشق از خود رفتگی سے ہیں بہ گلزار خیال
- فرط بے خوابی سے ہیں شب ہاۓ ہجر یار میں
- شام غم میں سوز عشق آتش رخسار سے
- رہتے ہیں افسردگی سے سخت بیدردانہ ہم
- حسرت عرض تمنا یاں سے سمجھا چاہیے
- کہتے ہوئے ساقی سے حیا آتی ہے ورنہ
- زمزم ہی پہ چھوڑو مجھے کیا طوف حرم سے
- خوں ہو کے جگر آنکھ سے ٹپکا نہیں اے مرگ
- غنچۂ ناشگفتہ کو دور سے مت دکھا کہ یوں
- بوسہ کو پوچھتا ہوں میں منہ سے مجھے بتا کہ یوں
- اس کے ہر ایک اشارہ سے نکلے ہے یہ ادا کہ یوں
- غیر سے رات کیا بنی یہ جو کہا تو دیکھیے
- میں نے کہا کہ بزم ناز چاہیے غیر سے تہی
- مجھ سے کہا جو یار نے جاتے ہیں ہوش کس طرح
- خستگی کا تم سے کیا شکوہ کہ یہ
- اے شعلہ فرصتے کہ سویدائے دل سے ہوں
- شادی سے گزر کہ غم نہ ہووے
- قطرۂ مے بسکہ حیرت سے نفس پرور ہوا
- درد سے در پردہ دی مژگاں سیاہاں نے شکست
- دانۂ تسبیح سے میں مہرہ در ششدر ہوا
- نہ نکلا آنکھ سے تیری اک آنسو اس جراحت پر
- سمجھتا ہوں کہ ڈھونڈے ہے ابھی سے برق خرمن کو
- مرے شاہ سلیماں جاہ سے نسبت نہیں غالبؔ
- تعجب سے وہ بولا یوں بھی ہوتا ہے زمانے میں
- سرشک آشفتہ سر تھا قطرہ زن مژگاں سے جانے میں
- رہے یاں شوخیٔ رفتار سے پا آستانے میں
- ہوئی یہ بے خودی چشم و زباں کو تیرے جلوے سے
- تم کون سے تھے ایسے کھرے داد و ستد کے
- مجھ سے تمہیں نفرت سہی نیر سے لڑائی
- واں تلک کوئی کسی حیلے سے پہنچا دے مجھے
- یاں تلک میری گرفتاری سے وہ خوش ہے کہ میں
- فنا تعلیم درس بے خودی ہوں اس زمانے سے
- فراغت کس قدر رہتی مجھے تشویش مرہم سے
- کہ پشت چشم سے جس کی نہ ہووے مہر عنواں پر
- نہ لڑ ناصح سے غالبؔ کیا ہوا گر اس نے شدت کی
- اسدؔ اے بے تحمل عربدہ بیجا ہے ناصح سے
- بندھا ہے عقدۂ خاطر سے پیماں خاکساری کا
- نگہ کو آبلوں سے شغل ہے اختر شماری کا
- اسدؔ ساغر کش تسلیم ہو گردش سے گردوں کی
- جنبش ہر برگ سے ہے گل کے لب کو اختلاج
- حب شبنم سے صبا ہر صبح کرتی ہے علاج
- چشم مست یار سے ہے گردن مینا پہ باج
- قہرمان عشق میں حسرت سے لیتے ہیں خراج
- لوں وام بخت خفتہ سے یک خواب خوش ولے
- غالبؔ یہ خوف ہے کہ کہاں سے ادا کروں
- موج غبار سے پر یک دشت وا کروں
- آ اے بہار ناز کہ تیرے خرام سے
- جوں جادہ گرد رہ سے نگہ سرمہ سا کروں
- افشاں غبار سرمہ سے فرد صدا کروں
- لوں وام بخت خفتہ سے یک خواب خوش اسد
- لیکن یہ بیم ہے کہ کہاں سے ادا کروں
- مثل گل زخم ہے میرا بھی سناں سے توام
- جوں مردمک چشم سے ہوں جمع نگاہیں
- ہیں داغ سے معمور شقائق کی کلاہیں
- آئینے کے پایاب سے اتری ہیں سپاہیں
- کھینچوں ہوں سویداۓ دل چشم سے آہیں
- مجھ کو دیار غیر میں مارا وطن سے دور
- ہیں بسکہ جوش بادہ سے شیشے اچھل رہے
- جوش قدح سے بزم چراغاں کیے ہوئے
- پھر وضع احتیاط سے رکنے لگا ہے دم
- سرمے سے تیز دشنۂ مژگاں کیے ہوئے
- چہرہ فروغ مے سے گلستاں کیے ہوئے
- غالبؔ ہمیں نہ چھیڑ کہ پھر جوش اشک سے
- تغافل مشربی سے ناتمامی بسکہ پیدا ہے
- کہ رگ سے سنگ میں تخم شرر کا ریشہ پیدا ہے
- عزیزو ذکر وصل غیر سے مجھ کو نہ بہلاؤ
- نہ سووے آبلوں میں گر سرشک دیدۂ نم سے
- اسدؔ یاس تمنا سے نہ رکھ امید آزادی
- خیال جلوۂ گل سے خراب ہیں میکش
- ہوا ہوں عشق کی غارتگری سے شرمندہ
- جیب خیال بھی ترے ہاتھوں سے چاک ہے
- جوش جنوں سے کچھ نظر آتا نہیں اسدؔ
- مے سے غرض نشاط ہے کس رو سیاہ کو
- نشوونما ہے اصل سے غالبؔ فروع کو
- خاموشی ہی سے نکلے ہے جو بات چاہیے
- ملتی ہے خوئے یار سے نار التہاب میں
- کب سے ہوں کیا بتاؤں جہان خراب میں
- کیوں بد گماں ہوں دوست سے دشمن کے باب میں
- میں مضطرب ہوں وصل میں خوف رقیب سے
- جس نالہ سے شگاف پڑے آفتاب میں
- جس سحر سے سفینہ رواں ہو سراب میں
- قسمت کھلی ترے قد و رخ سے ظہور کی
- لڑتا ہے مجھ سے حشر میں قاتل کہ کیوں اٹھا
- کعبے سے ان بتوں کو بھی نسبت ہے دور کی
- کی جس سے بات اس نے شکایت ضرور کی
- میں اور بزم مے سے یوں تشنہ کام آؤں
- وہ دن گئے کہ اپنا دل سے جگر جدا تھا
- نفی سے کرتی ہے اثبات تراوش گویا
- کم نہیں جلوہ گری میں ترے کوچے سے بہشت
- کرتے کس منہ سے ہو غربت کی شکایت غالبؔ
- نفس نہ انجمن آرزو سے باہر کھینچ
- برنگ خار مرے آئنہ سے جوہر کھینچ
- نیام پردۂ زخم جگر سے خنجر کھینچ
- ہمارے صفحے پہ بال پری سے مسطر کھینچ
- سینۂ شمشیر سے باہر ہے دم شمشیر کا
- نعل آتش میں ہے تیغ یار سے نخچیر کا
- پر ہوا ہے سیل سے پیمانہ کس تعمیر کا
- رنگ نے گل سے دم عرض پریشانیٔ بزم
- آمد خط سے نہ کر خندۂ شیریں کہ مباد
- خواب صیاد سے پرواز گرانی مانگے
- بلا سے گر مژۂ یار تشنۂ خوں ہے
- فلک نہ دور رکھ اس سے مجھے کہ میں ہی نہیں
- ادائے خاص سے غالبؔ ہوا ہے نکتہ سرا
- بوجھ وہ سر سے گرا ہے کہ اٹھائے نہ اٹھے
- ہوئی مجلس کی گرمی سے روانی دور ساغر کی
- کہ طاقت اڑ گئی اڑنے سے پہلے میرے شہ پر کی
- ہوا جب غم سے یوں بے حس تو غم کیا سر کے کٹنے کا
- نہ ہوتا گر جدا تن سے تو زانو پر دھرا ہوتا
- نہ لیوے گر خس جوہر طراوت سبزۂ خط سے
- فروغ حسن سے ہوتی ہے حل مشکل عاشق
- نہ نکلے شمع کے پا سے نکالے گر نہ خار آتش
- دھوئیں سے آگ کے اک ابر دریا بار ہو پیدا
- اسدؔ حیدر پرستوں سے اگر ہووے دو چار آتش
- وہ اک نگہ کہ بظاہر نگاہ سے کم ہے
- وہ بھی دن ہو کہ اس ستم گر سے
- جس سے مژگاں ہوئی نہ ہو گلباز
- نہ ہوئی گر مرے مرنے سے تسلی نہ سہی
- مے پرستاں خم مے منہ سے لگائے ہی بنے
- نہ ہوگا یک بیاباں ماندگی سے ذوق کم میرا
- محبت تھی چمن سے لیکن اب یہ بے دماغی ہے
- کہ موج بوئے گل سے ناک میں آتا ہے دم میرا
- شب فراق سے روز جزا زیاد نہیں
- بلا سے آج اگر دن کو ابر و باد نہیں
- جو جاؤں واں سے کہیں کو تو خیرباد نہیں
- تم ان کے وعدہ کا ذکر ان سے کیوں کرو غالبؔ
- بیاں کس سے ہو ظلمت گستری میرے شبستاں کی
- وارستہ اس سے ہیں کہ محبت ہی کیوں نہ ہو
- ہے مجھ کو تجھ سے تذکرۂ غیر کا گلہ
- ڈالا نہ بے کسی نے کسی سے معاملہ
- اپنے سے کھینچتا ہوں خجالت ہی کیوں نہ ہو
- حاصل نہ کیجے دہر سے عبرت ہی کیوں نہ ہو
- اپنے سے کر نہ غیر سے وحشت ہی کیوں نہ ہو
- اس فتنہ خو کے در سے اب اٹھتے نہیں اسدؔ
- یعنی یہ میری آہ کی تاثیر سے نہ ہو
- آئینہ تاکہ دیدۂ نخچیر سے نہ ہو
- ضعف سے نقش پئے مور ہے طوق گردن
- ترے کوچے سے کہاں طاقت رم ہے ہم کو
- خانہ ہے سیل سے خو کردۂ دیدار ہنوز
- آئی یک عمر سے معذور تماشہ نرگس
- نہ دے جو بوسہ تو منہ سے کہیں جواب تو دے
- پلا دے اوک سے ساقی جو ہم سے نفرت ہے
- اسدؔ خوشی سے مرے ہاتھ پاؤں پھول گئے
- تھی وہ اک شخص کے تصور سے
- ہم سے چھوٹا قمار خانۂ عشق
- وہ مری چین جبیں سے غم پنہاں سمجھا
- چاک کرتا ہوں میں جب سے کہ گریباں سمجھا
- عجز سے اپنے یہ جانا کہ وہ بد خو ہوگا
- نبض خس سے تپش شعلۂ سوزاں سمجھا
- تھا گریزاں مژۂ یار سے دل تا دم مرگ
- چاہیے درمان ریش دل بھی تیغ یار سے
- کثرت جور و ستم سے ہو گیا ہوں بے دماغ
- قامت خم سے ہے حاصل شوخیٔ ابرو مجھے
- مٹا جس سے تقاضا شکوۂ بے دست و پائی کا
- سواد خط پیشانی سے نسخہ مومیائی کا
- پھر اس انداز سے بہار آئی
- کیا ہی رضواں سے لڑائی ہوگی
- دل سے تنگ آ کے جگر یاد آیا
- دل ہوائے خرام ناز سے پھر
- پینس میں گزرتے ہیں جو کوچے سے وہ میرے
- ہے شکستن سے بھی دل نومید یارب کب تلک
- مے کدہ گر چشم مست ناز سے پاوے شکست
- خط عارض سے لکھا ہے زلف کو الفت نے عہد
- وقت اس افتادہ کا خوش جو قناعت سے اسد
- صحبت رنداں سے واجب ہے حذر
- بارے اب اس سے بھی سمجھا چاہیے
- منہ چھپانا ہم سے چھوڑا چاہیے
- ہم سے رنج بیتابی کس طرح اٹھایا جائے
- عشق کے تغافل سے ہرزہ گرد ہے عالم
- کبھی نیکی بھی اس کے جی میں گر آ جائے ہے مجھ سے
- جفائیں کر کے اپنی یاد شرما جائے ہے مجھ سے
- کہ جتنا کھینچتا ہوں اور کھنچتا جائے ہے مجھ سے
- عبارت مختصر قاصد بھی گھبرا جائے ہے مجھ سے
- نہ پوچھا جائے ہے اس سے نہ بولا جائے ہے مجھ سے
- کہ دامان خیال یار چھوٹا جائے ہے مجھ سے
- وہ دیکھا جائے کب یہ ظلم دیکھا جائے ہے مجھ سے
- نہ بھاگا جائے ہے مجھ سے نہ ٹھہرا جائے ہے مجھ سے
- وہ کافر جو خدا کو بھی نہ سونپا جائے ہے مجھ سے
- کرے ہے بادہ ترے لب سے کسب رنگ فروغ
- کہ ایک عمر سے حسرت پرست بالیں ہے
- کہ گوش گل نم شبنم سے پنبہ آگیں ہے
- سبک سر بن کے کیا پوچھیں کہ ہم سے سرگراں کیوں ہو
- قفس میں مجھ سے روداد چمن کہتے نہ ڈر ہمدم
- کہ جب دل میں تمہیں تم ہو تو آنکھوں سے نہاں کیوں ہو
- نکالا چاہتا ہے کام کیا طعنوں سے تو غالبؔ
- ترے بے مہر کہنے سے وہ تجھ پر مہرباں کیوں ہو
- ہوں منحرف نہ کیوں رہ و رسم ثواب سے
- غالبؔ کچھ اپنی سعی سے لہنا نہیں مجھے
- آئی اگر بلا تو جگہ سے ٹلے نہیں
- جاں کیوں نکلنے لگتی ہے تن سے دم سماع
- اتنا ہی مجھ کو اپنی حقیقت سے بعد ہے
- جتنا کہ وہم غیر سے ہوں پیچ و تاب میں
- شرم اک ادائے ناز ہے اپنے ہی سے سہی
- آرایش جمال سے فارغ نہیں ہنوز
- غالبؔ ندیم دوست سے آتی ہے بوئے دوست
- ہم وہاں ہیں جہاں سے ہم کو بھی
- کعبہ کس منہ سے جاؤ گے غالبؔ
- ہاں منہ سے مگر بادۂ دوشینہ کی بو آئے
- جلاد سے ڈرتے ہیں نہ واعظ سے جھگڑتے
- اپنا نہیں یہ شیوہ کہ آرام سے بیٹھیں
- اچھے رہے آپ اس سے مگر مجھ کو ڈبو آئے
- عشق سے طبیعت نے زیست کا مزا پایا
- آپ سے کوئی پوچھے تم نے کیا مزا پایا
- یاس کو دو عالم سے لب بہ خندہ وا پایا
- ہم سے تیرے کوچے نے نقش مدعا پایا
- نہ کہیو طعن سے پھر تم کہ ہم ستم گر ہیں
- خدا سے کیا ستم و جور ناخدا کہیے
- کی وفا ہم سے تو غیر اس کو جفا کہتے ہیں
- آج ہم اپنی پریشانی خاطر ان سے
- دل میں آ جاے ہے ہوتی ہے جو فرصت غش سے
- اور پھر کون سے نالے کو رسا کہتے ہیں
- ہے پرے سرحد ادراک سے اپنا مسجود
- پائے افگار پہ جب سے تجھے رحم آیا ہے
- اک شرر دل میں ہے اس سے کوئی گھبرائے گا کیا
- ہے کائنات کو حرکت تیرے ذوق سے
- پرتو سے آفتاب کے ذرے میں جان ہے
- حالانکہ ہے یہ سیلی خارا سے لالہ رنگ
- کس سے کہوں کہ داغ جگر کا نشان ہے
- کیونکر اس بت سے رکھوں جان عزیز
- دل سے نکلا پہ نہ نکلا دل سے
- آتا ہے میرے قتل کو پر جوش رشک سے
- واحسرتا کہ یار نے کھینچا ستم سے ہاتھ
- ان آبلوں سے پاؤں کے گھبرا گیا تھا میں
- کیا بد گماں ہے مجھ سے کہ آئینے میں مرے
- یعنی اس بیمار کو نظارے سے پرہیز ہے
- ہو سکے کیا خاک دست و بازوئے فرہاد سے
- مجھ سے مرے گنہ کا حساب اے خدا نہ مانگ
- گر خامشی سے فائدہ اخفائے حال ہے
- مشکیں لباس کعبہ علی کے قدم سے جان
- پہلو تہی نہ کر غم و اندوہ سے اسدؔ
- ایسی باتوں سے وہ کافر بد گماں ہو جائے گا
- لے لیا مجھ سے مری ہمت عالی نے مجھے
- جلوۂ خور سے فنا ہوتی ہے شبنم غالبؔ
- نور چراغ بزم سے جوش سحر ہے آج
- آئینہ نفس سے بھی ہوتا ہے کدورت کش
- دل اس کو پہلے ہی ناز و ادا سے دے بیٹھے
- کہے سے کچھ نہ ہوا پھر کہو تو کیونکر ہو
- جو تم سے شہر میں ہوں ایک دو تو کیونکر ہو
- ہمیں پھر ان سے امید اور انہیں ہماری قدر
- کام اس سے آ پڑا ہے کہ جس کا جہان میں
- ہجوم غم سے یاں تک سرنگونی مجھ کو حاصل ہے
- رفوئے زخم سے مطلب ہے لذت زخم سوزن کی
- سمجھیو مت کہ پاس درد سے دیوانہ غافل ہے
- خموشی ریشۂ صد نیستاں سے خس بہ دنداں ہے
- ہوئی یہ کثرت غم سے تلف کیفیت شادی
- دل و دیں نقد لا ساقی سے گر سودا کیا چاہے
- یہ رشک ہے کہ وہ ہوتا ہے ہم سخن تم سے
- چپک رہا ہے بدن پر لہو سے پیراہن
- جب آنکھ ہی سے نہ ٹپکا تو پھر لہو کیا ہے
- ہر قدم دورئ منزل ہے نمایاں مجھ سے
- میری رفتار سے بھاگے ہے بیاباں مجھ سے
- ہے نگہ رشتۂ شیرازۂ مژگاں مجھ سے
- وحشت آتش دل سے شب تنہائی میں
- صورت دود رہا سایہ گریزاں مجھ سے
- کس قدر خانۂ آئینہ ہے ویراں مجھ سے
- اثر آبلہ سے جادۂ صحرائے جنوں
- صورت رشتۂ گوہر ہے چراغاں مجھ سے
- پُر ہے ساے کی طرح میرا شبستاں مجھ سے
- ہو نگہ مثل گل شمع پریشاں مجھ سے
- سایہ خورشید قیامت میں ہے پنہاں مجھ سے
- گردش ساغر صد جلوۂ رنگیں تجھ سے
- آئنہ داریٔ یک دیدۂ حیراں مجھ سے
- نگہ گرم سے ایک آگ ٹپکتی ہے اسدؔ
- ہے چراغاں خس و خاشاک گلستاں مجھ سے
- خواب جمعیت مخمل ہے پریشاں مجھ سے
- رگ بستر کو ملی شوخیٔ مژگاں مجھ سے
- کس قدر خانۂ آئینہ ہے ویراں مجھ سے
- عینک چشم بنا روزن زنداں مجھ سے
- ورنہ کیا ہو نہ سکے نالہ بساماں مجھ سے
- چشم نکشودہ رہا عقدۂ پیماں مجھ سے
- آتش افروزی یک شعلۂ ایما تجھ سے
- چشمک آرائی صد شہر چراغاں مجھ سے
- کاش ہو قدرت برچیدن داماں مجھ سے
- وہ خوں جو چشم تر سے عمر بھر یوں دم بدم نکلے
- نکلنا خلد سے آدم کا سنتے آئے ہیں لیکن
- بہت بے آبرو ہو کر ترے کوچے سے ہم نکلے
- مگر لکھوائے کوئی اس کو خط تو ہم سے لکھوائے
- ہوئی صبح اور گھر سے کان پر رکھ کر قلم نکلے
- ہوئی اس دور میں منسوب مجھ سے بادہ آشامی
- ہوئی جن سے توقع خستگی کی داد پانے کی
- وہ ہم سے بھی زیادہ خستۂ تیغ ستم نکلے
- در پردہ انہیں غیر سے ہے ربط نہانی
- کرے ہے بادہ ترے لب سے کسب رنگ فروغ
- کہ ایک عمر سے حسرت پرست بالیں ہے
- کہ گوش گل نم شبنم سے پنبہ آگیں ہے
- ہم سے کھل جاؤ بوقت مے پرستی ایک دن
- ہم پر جفا سے ترک وفا کا گماں نہیں
- کس منہ سے شکر کیجئے اس لطف خاص کا
- خنجر سے چیر سینہ اگر دل نہ ہو دو نیم
- نقصاں نہیں جنوں میں بلا سے ہو گھر خراب
- پاتا ہوں اس سے داد کچھ اپنے کلام کی
- کس جرم سے ہے چشم تجھے حسرت قبول
- عبرت سے پوچھ درد پریشانیٔ نگاہ
- ضبط سے مطلب بہ جز وارستگی دیگر نہیں
- دامن تمثال آب آئنہ سے تر نہیں
- ہے وطن سے باہر اہل دل کی قدر و منزلت
- عاجزی سے ظاہراً رتبہ کوئی برتر نہیں
- تجاہل پیشگی سے مدعا کیا
- تم سے بے جا ہے مجھے اپنی تباہی کا گلہ
- مطلب نہیں کچھ اس سے کہ مطلب ہی بر آوے
- تا باز گشت سے نہ رہے مدعا مجھے
- آنے لگی ہے نکہت گل سے حیا مجھے
- میں نے جنوں سے کی جو اسدؔ التماس رنگ
- ہے بزم بتاں میں سخن آزردہ لبوں سے
- تنگ آئے ہیں ہم ایسے خوشامد طلبوں سے
- یک بار لگا دو خم مے میرے لبوں سے
- زنہار نہ ہونا طرف ان بے ادبوں سے
- ہر چند مری جان کو تھا ربط لبوں سے
- خواری کو بھی اک عار ہے عالی نسبوں سے
- جاتی ہے ملاقات کب ایسے سببوں سے
- دو دن بھی جو کاٹے تو قیامت تعبوں سے
- ابرو سے ہے کیا اس نگہ ناز کو پیوند
- لے آئیں گے بازار سے جا کر دل و جاں اور
- کہتا تھا کل وہ محرم راز اپنے سے کہ آہ
- اس لب سے مل ہی جائے گا بوسہ کبھی تو ہاں
- پیماں سے ہم گزر گئے پیمانہ چاہیے
- شرمندہ رکھتے ہیں مجھے باد بہار سے
- سطوت سے تیرے جلوۂ حسن غیور کی
- غالبؔ مجھے ہے اس سے ہم آغوشی آرزو
- یا رب اس آشفتگی کی داد کس سے چاہئے
- آرزو سے ہے شکست آرزو مطلب مجھے
- دل لگا کر آپ بھی غالبؔ مجھی سے ہو گئے
- عشق سے آتے تھے مانع میرزاؔ صاحب مجھے
- شومیٔ طالع سے ہوں ذوق معاصی میں اسیر
- سو بار بند عشق سے آزاد ہم ہوئے
- کہ خوشی سے مر نہ جاتے اگر اعتبار ہوتا
- تری نازکی سے جانا کہ بندھا تھا عہد بودا
- کوئی میرے دل سے پوچھے ترے تیر نیم کش کو
- یہ خلش کہاں سے ہوتی جو جگر کے پار ہوتا
- رگ سنگ سے ٹپکتا وہ لہو کہ پھر نہ تھمتا
- کہوں کس سے میں کہ کیا ہے شب غم بری بلا ہے
- اے دجلۂ خوں چشم ملائک سے رواں ہو
- یہ خرگہ نہ پایۂ جو مدت سے بپا ہے
- کیا خیمۂ شبیر سے رتبے میں سوا ہے
- گرتا نہیں اس رو سے کہو برق نہیں ہے
- فرق سے تیرے کرے کسب سعادت اکلیل
- تجھ سے عالم پہ کھلا رابطۂ قرب کلیم
- تجھ سے دنیا میں بچھا مائدہ بذل خلیل
- ماہ نے چھوڑ دیا ثور سے جانا باہر
- زہرہ نے ترک کیا حوت سے کرنا تحویل
- در معنی سے مرا صفحہ لقا کی داڑھی
- غم گیتی سے مرا سینہ عمر کی زنبیل
- میرے اجمال سے کرتی ہے تراوش تفصیل
- تھا ہمیشہ سے یہ عریضہ گزار
- نہ کہوں آپ سے تو کس سے کہوں
- شاعری سے نہیں مجھے سروکار
- گھر سے بازار میں نکلتے ہوئے
- کوئی واں سے نہ آ سکے یاں تک
- اس طرح کے وصال سے یا رب
- کیا مٹے دل سے داغ ہجراں کا
- لایا ہے کہہ کے یہ غزل شائبہ ریا سے دور
- قسم لو ہم سے گر یہ بھی کہیں کیوں ہم نہ کہتے تھے
- اس سے ہے یہ مراد کہ ہم آشنا نہیں
- یوں سمجھیے کہ بیچ سے خالی کیے ہوئے
- سر پستان پریزاد سے مانا کہیے
- اختر سوختۂ قیس سے نسبت دیجیے
- ابر دست کرم کلب علی خاں سے مدام
- حق سے کیا مانگیے ان کے لیے جب ہو موجود
- جیسا کہ آفتاب نکلتا ہے شرق سے
- اخلاص کا ہوا ہے اسی ملک سے ظہور
- ہے اصل تخم ہند سے اور اس زمین سے
- کہا غالبؔ سے تاریخ اس کی کیا ہے
- غرض اس سے ہیں چار دہ معصوم
- جس سے ہے چشم جاں کو بینائی
- جس سے ایماں کو ہے توانائی
- کہ جس کے دیکھے سے سب کا ہوا ہے جی محظوظ
- وہ کڑوے کریلے کہاں سے منگائیں
- سو پشت سے ہے پیشۂ آبا سپہ گری
- ہرگز کبھی کسی سے عداوت نہیں مجھے
- استاد شہ سے ہو مجھے پرخاش کا خیال
- میں کون اور ریختہ ہاں اس سے مدعا
- مقصود اس سے قطع محبت نہیں مجھے
- رہا ہے زور سے ابر ستارہ بار برس
- بڑے عذاب سے کاٹے ہیں پانچ چار برس
- شفا ہو آپ کو غالبؔ کو بند غم سے نجات
- چشم بینش ہو جس سے نورانی
- اس سے انداز شوکت تحریر
- تین نثروں سے کام کیا نکلے
- ان کے پڑھنے سے نام کیا نکلے
- اس سے جو کوئی بہرہ ور ہو گا
- چار سے پھر نہ ہو گی کم قیمت
- اس سے لیویں گے کم نہ ہم قیمت
- نہ کھاتے گیہوں نکلتے نہ خلد سے باہر
- تجھ سے جو اتنی ارادت ہے تو کس بات سے ہے
- رونق بزم مہ مہر تری ذات سے ہے
- غیر کیا خود مجھے نفرت مری اوقات سے ہے
- خستگی کا ہو بھلا جس کے سبب سے سر دست
- نسبت اک گونہ مرے دل کو ترے ہات سے ہے
- یہ دعا شام و سحر قاضی حاجات سے ہے
- گو شرف خضر کی بھی مجھ کو ملاقات سے ہے
- غالبؔ خاک نشیں اہل خرابات سے ہے
- تین دن مسہل سے پہلے تین دن مسہل کے بعد
- ہوئی ہے مبدع عالم سے اس قدر انعام
- چرخ تک دھوم ہے کس دھوم سے آیا سہرا
- کبھی چوما کبھی آنکھوں سے لگایا سہرا
- رشک سے لڑتی ہیں آپس میں الجھ کر لڑیاں
- کیا ہی اس چاند سے مکھڑے پہ بھلا لگتا ہے
- رخ پہ دولھا کے جو گرمی سے پسینا ٹپکا
- یہ بھی اک بے ادبی تھی کہ قبا سے بڑھ جائے
- دیکھیں اس سہرے سے کہدے کوئی بڑھ کر سہرا
- نہ رکھ آپ سے تعلق مگر ایک بدگمانی
- شر و شور آرزو سے تب و تاب عجز بہتر
- مجھے بادۂ طرب سے بہ خمار گاہ قسمت
- ہمہ یک نفس تپش سے تب و تاب ہجر مت پوچھ
- خوں ہوا جوش تمنا سے دو عالم کا دماغ
- وحشت دل سے پریشاں ہیں چراغان خیال
- باندھوں ہوں آئنے پر چشم پری سے آئیں
- چشم امید سے گرتے ہیں دو عالم جوں اشک
- جل اٹھے گرمی رفتار سے پاے چوبیں
- کھینچوں ہوں آئنے پر خندۂ گل سے مسطر
- رنج تعظیم مسیحا نہیں اٹھتا مجھ سے
- بس کہ گستاخی ارباب جہاں سے ہوں ملول
- اے عبارت تجھے کس خط سے ہے درس نیرنگ
- شور اوہام سے مت ہو شب خون انصاف
- کس سے ممکن ہے تری مدح بغیر از واجب
- نسبت نام سے اس کے ہے یہ رتبہ کہ رہے
- بوے گل سے نفس باد صبا عطر آگیں
- کوہ کو بیم سے اس کے ہے جگر باختگی
- کفر سوز اس کا وہ جلوہ ہے کہ جس سے ٹوٹے
- جنت نقش قدم سے ہوں میں اس کی گلچیں
- اس کی شوخی سے بہ حیرت کدہ نقش خیال
- جلوۂ برق سے ہوجائے نگہ عکس پذیر
- ذوق گلچینی نقش کف پا سے تیرے
- ذرے سے باندھے ہے خرشید فلک پر آئیں
- کس سے ہوسکتی ہے مداحی ممدوح خدا
- کس سے ہوسکتی ہے آرایش فردوس بریں
- غم شبیر سے ہو سینہ یہاں تک لبریز
- کہ رہیں خون جگر سے مری آنکھیں رنگیں
- کہ جہاں تک چلے اس سے قدم اور مجھ سے جبیں
- ہے غیب سے ہر دم تجھے صد گونہ بشارت
- جو عقدہ دشوار کہ کوشش سے نہ وا ہو
- ممکن ہے کرے خضر سکندر سے ترا ذکر
- گر لب کو نہ دے چشمۂ حیواں سے طہارت
- آصف کو سلیماں کی وزارت سے شرف تھا
- تو آب سے گر سلب کرے طاقت سیلاں
- تو آگ سے گر دفع کرے تاب شرارت
- گرہ سے اور گرہ کی امید کیوں نہ بڑھے
- دکھا کے رشتہ کسی جوتشی سے پوچھا تھا
- وہ راؤ راجہ بہادر کہ حکم سے جن کے
- کہ لائے غیب سے غنچوں کی نو بہار گرہ
- بری طرح سے ہوئی ہے گلے کا ہار گرہ
- کبھی کسی سے کھلے گی نہ زینہار گرہ
- راز دل مجھ سے کیوں چھپاتا ہے
- جانتا ہوں کہ اس کے فیض سے تو
- اور کے لین دین سے کیا کام
- تیرے پرتو سے ہوں فروغ پذیر
- غم سے جب ہو گئی ہو زیست حرام
- چرخ نے لی ہے جس سے گردش وام
- تو نہیں جانتا تو مجھ سے سن
- اس کے مضروب کے سر و تن سے
- ہے ازل سے روائیٔ آغاز
- ترک فلک کے ہاتھ سے وہ چھین لیں حسام
- سچ ہے تم آفتاب ہو جس کے فروغ سے
- حق کے تفضلات سے ہو مرجع انام
- تحریر ایک جس سے ہوا بندہ تلخ کام
- اس ناز کا فلک نے لیا مجھ سے انتقام
- آقاے نامور سے نہ کچھ کر سکا کلام
- شاہان عصر چاہیے لیں عزت اس سے دام
- دستور فن شعر یہی ہے قدیم سے
- اقلیم ہند و سند سے تا ملک روم و شام
- کہ باج تاج سے لیتا ہے جس کا طرف کلاہ
- وہ عین عدل کہ دہشت سے جس کی پرسش کی
- زمیں سے سودۂ گوہر اٹھے بجاے غبار
- یہ اس کے عدل سے اضداد کو ہے آمیزش
- ہزبز پنجے سے لیتا ہے کام شانے کا
- خدا سے ہے یہ توقع کہ عہد طفلی میں
- بنے گا شرق سے تا غرب اس کا بازی گاہ
- یہ ترکتاز سے برہم کرے گا کشور روس
- یہ لے گا بادشہ چیں سے چھین تخت و کلاہ
- یہ چاہتے ہیں جہاں آفریں سے شام و پگاہ
- نقش سم سمند سے یکسر
- بندہ پرور ثنا طرازی سے
- اور پھر اب کہ ضعف پیری سے
- ساز یک ذرہ نہیں فیض چمن سے بے کار
- مستی باد صبا سے ہے بہ عرض سبزہ
- بے ستوں سبزے سے ہے سنگ زمرد کا مزار
- سینہ بے تابی سے ملتا ہے بہ تیغ کہسار
- مستی ابر سے گلچین طرب ہے حسرت
- راہ خوابیدہ ہوی حندۂ گل سے بیدار
- لالے کے داغ سے جوں نقطہ و خط سنبل زار
- پر قمری سے کرے صیقل تیغ کہسار
- جوش بیداد تپش سے ہوئی عریاں آخر
- گل نرگس سے کف جام پہ ہے چشم بہار
- بیخودی دام رگ گل سے ہے پیمانہ شکار
- باندھے ہے پیر فلک موج شفق سے زنار
- سرو بیدل سے عیاں عکس خیال قد یار
- نگہ آئنہ کیفیت دل سے دوچار
- ورنہ وہ ناز ہے جس گلشن بیداد سے تھا
- بیم سے جس کے صبا توڑے ہے صد جا زنار
- واں کی خاشاک سے حاصل ہو جسے یک پرکاہ
- وہ رہے مروحۂ بال پری سے بے زار
- چشمک ذرہ سے ہے گرم نگہ کا بازار
- آفرینش کو ہے واں سے طلب مستی ناز
- یک بیاباں تپش بال شرر سے صحرا
- گرمی شعلۂ رفتار سے جلتے خس و خار
- ابر نیساں سے ملے موج گہر کا تاواں
- دام سے اس کے قضا کو ہے رہائی دشوار
- موج ابروے قضا جس کے تصور سے دو نیم
- بیم سے جس کے دل شحنۂ تقدیر فگار
- شعلہ تحریر سے اس برق کی ہے کلک قضا
- بال جبریل سے مسطر کش سطر زنہار
- ہے حنا کو سر ناخن سے گزرنا دشوار
- خون صد برق سے باندھے بکف دست نگار
- ذوق تسلیم تمنا سے بہ گلزار حضور
- عرض تسخیر تماشا سے بہ دام اظہار
- فیض سے تیرے ہے اے شمع شبستان بہار
- گرد جولاں سے ہے تیری بگریبان خرام
- ذوق بے تابی دیدار سے تیرے ہے ہنوز
- جوش جوہر سے دل آئنہ گلدستۂ خار
- تیری اولاد کے غم سے ہے بروے گردوں
- ہم ریاضت کو ترے حوصلے سے استظہار
- مژۂ دیدۂ نخچیر سے نبض بیمار
- دید یک غنچہ سے ہوں بسمل نقصان بہار
- صورت رنگ حنا ہاتھ سے دامان بہار
- مژۂ خواب سے کرتا ہوں بآسایش درد
- ہوں نفس سے صفت نغمہ بہ بند رگ تار
- مردمک سے ہو عزا خانۂ اقبال نگاہ
- کہ رہے خون خزاں سے بہ حنا پاے بہار
- فیض معنی سے خط ساغر راقم سرشار
- تاج زریں مہر تاباں سے سوا
- وہ کہ جس کے ناخن تاویل سے
- تھان سے وہ غیرت صرصر کھلا
- مجھ پہ فیض تربیت سے شاہ کے
- میری حد وسع سے باہر کھلا
- مجھ سے گر شاہ سخن گستر کھلا
- ہے اصل خرد سے شرمسار اندیشہ
- کٹتا ہے بتاؤ کس طرح سے رمضاں
- ہوتی ہے تراویح سے فرصت کب تک
- اس سے گلہ مند ہوگیا ہے گویا
- ہوں درد ہلاک نامہ بر سے بیمار
- کہتے ہیں کہیں خدا سے اللہ اللہ
- حق شہ کی بقا سے خلق کو شاد کرے
- میں تجھ سے اور مجھ سے تو پوشیدہ
- ہر رات شمع شام سے لے تا سحر جلے
- جن لوگوں کو ہے مجھ سے عداوت گہری
- عشاق کی پرسش سے اسے عار نہیں
- جو ہاتھ کہ ظلم سے اٹھایا ہو گا
- منظور ہے دو جہاں سے نو یعنی دل
- پہلوے حیات سے گزر جاتا صاف
- رہیے نہ مشقت گدائی سے معاف
- دل سوز جنوں سے جلوہ منظر ہے آج
- سامان خور و خواب کہاں سے لاؤں
- آرام کے اسباب کہاں سے لاؤں
- خس خانہ و برفاب کہاں سے لاؤں
- رویا میں ہزار آنکھ سے صبح تلک
- یاران نبی سے رکھ تولّا باللہ
- ان چار میں ایک سے ہو جس کو انکار
- تو پھر کہیں کہ کچھ اس سے سوا کہیں اس کو
- مسیح جس سے کرے اخذ فیض جاں بخشی
- علی سے آ کے لڑے اور خطا کہیں اس کو
- کرے جو ان سے برائی بھلا کہیں اس کو
- رکھے امام سے جو بغض کیا کہیں اس کو
- عمر و دولت سے شادمان رہیں
- مجھ سے کیا پوچھتا ہے کیا لکھیے
- شرم سے پانی پانی ہونا ہے
- مجھ سے پوچھو تمہیں خبر کیا ہے
- یہ یہ ہو گا کہ فرط رافت سے
- باغبانوں نے باغ جنت سے
- عدل سے اس کے ہے حمایت عہد
- خود بخود کچھ ہم سے کنیانے لگا
- اب تو مل جائے گی تیری ان سے سانٹھ
- قہر ہے دل ان سے الجھانا تجھے
- نسیم باغ سے پا در حنا نکلتی ہے
- بے چارہ کتنی دور سے آیا ہے شیخ جی
- ان دل فریبیوں سے نہ کیوں اس پہ پیار آئے
- جس دن سے کہ ہم غمزدہ زنجیر بپا ہیں
- کپڑوں میں جویں بخیے کے ٹانکوں سے سوا ہیں
- مرے سر سے کالی بلا باندھتے ہیں
- خدا سے میں بھی چاہوں از رہ مہر
- مزہ تو جب ہے کہ اے آہ نارسا ہم سے
- ملے دو مرشدوں کو قدرت حق سے ہیں دو طالب
- صبا لگا وہ طپانچے طرف سے بلبل کی
- تھکا جب قطرۂ بے دست و پا بالا دویدن سے
- جس کے پڑھنے سے ہو راضی بے نیاز
- منہ سے کچھ کہنے کو گفتن جانیے
- صبح سے دیکھیں گے رستہ یار کا
- پل ہی پر سے پھیر لائے ہم کو لوگ
- شوق ابھی سے ہے تجھے اشعار کا
- یارہ کہتے ہیں کڑے کو ہم سے پوچھ
- پاڑ ہے تالار اک عالم سے پوچھ
- علم سے ہی قدر ہے انسان کی
- غم سے جان عاشق دلگیر آدھی رہ گئی
- مستی چشم سیہ سے چل کے ہو ویں چارہ ساز
- تو صداے پا سے جاگا تھا جو محو خواب ناز
- سب سے یہ گوشہ کنارے ہے گلے لگ جا مرے
- سر سے گر چادر اتارے ہے گلے لگ جا مرے
- آکے آدھی دور میرے گھر سے وہ کیوں پھر گئے
- کچھ نہیں کہتا کسی سے سن رہا ہوں سب کی بات
- کس لیے تجھ سے چھپاؤں ہاں وہ پرسوں شب کی بات
- شام سے آتے تو کیا اچھی گزرتی رات سب