سیہ
32 Misre
- ہے نزاکت جلوہ اے ظالم سیہ خامی تری
- وصل میں بخت سیہ نے سنبلستاں گل کیا
- بس کہ ہیں در پردہ مصروف سیہ کاری تمام
- میرے لیے تو تیغ سیہ تاب ہو گئی
- وہم طرب ہستی ایجاد سیہ مستی
- چشم سیہ بہ مرگ نگہ سوگوار تر
- سیہ مستی ہے اہل خاک کو ابر بہاری سے
- اگی ہے دود جگر سے شب سیہ روزی
- ہے گلیم سیہ بخت پریشاں کا کل
- خم رنگ سیہ پیمانۂ ہر چشم آہو تھا
- خم گیسو ہو شمشیر سیہ تاب اور شب کاٹے
- اے اسدؔ تیرگی بخت سیہ ظاہر ہے
- سیہ مستی چشم شوخ سے ہیں جوہر مژگاں
- دود کو آج اس کے ماتم میں سیہ پوشی ہوئی
- اگر ابر سیہ مست از سوے کہسار ہو پیدا
- داغ دل سیہ دلاں مردم چشم زاغ ہے
- نہیں محسوس دود مشعل بزم سیہ پوشاں
- زلف سیہ افعی نظر بد قلمی ہے
- پوچھ مت وجہ سیہ مستیٔ ارباب چمن
- سیہ مستی ہے اہل خاک کو ابر بہاری سے
- کہ نگاہ ہے سیہ پوش بہ عزائے زندگانی
- شعلۂ عشق سیہ پوش ہوا میرے بعد
- گر نہیں شمع سیہ خانۂ لیلی نہ سہی
- سیہ ہو کر سویدا ہو گیا ہر قطرۂ خوں تن میں
- خوش حال اس حریف سیہ مست کا کہ جو
- سیہ گلیم ہوں لازم ہے میرا نام نہ لے
- کہ نگاہ ہے سیہ پوش بہ عزاے زندگانی
- کشتۂ افعی زلف سیہ شیریں کو
- نرگس و جام سیہ مستی چشم بیدار
- غنچۂ لالہ سیہ مست جوانی ہے ہنوز
- اونٹ اشتر اور اشغر سیہ ہے
- مستی چشم سیہ سے چل کے ہو ویں چارہ ساز