سیلاب
18 Misre
- سایۂ دیوار سیلاب در و دیوار ہے
- دریا بساط دعوت سیلاب ہے اسدؔ
- آسمان سفلہ جس میں یک کف سیلاب تھا
- مقدم سیلاب سے دل کیا نشاط آہنگ ہے
- اس کی سیل گریہ میں گردوں کف سیلاب تھا
- بیاض دیدۂ آہو کف سیلاب ہوجاوے
- گریے سے یاں پنبۂ بالش کف سیلاب تھا
- آسمان سفلہ جس میں یک کف سیلاب تھا
- مقدم سیلاب سے دل کیا نشاط آہنگ ہے
- اس کے سیل گریہ میں گردوں کف سیلاب تھا
- آمد سیلاب طوفان صداۓ آب ہے
- سایۂ دیوار سیلاب در و دیوار ہے
- نہ پوچھ بے خودی عیش مقدم سیلاب
- کس کے گھر جائے گا سیلاب بلا میرے بعد
- گریہ سے یاں پنبۂ بالش کف سیلاب تھا
- کف سیلاب باقی ہے بہ رنگ پنبہ روزن میں
- سیلاب گریہ درپئے دیوار و در ہے آج
- عرض خمیازۂ سیلاب ہو طاق دیوار