سیر
32 Misre
- بے چشم دل نہ کر ہوس سیر لالہ زار
- بہ پائے خفتہ سیر وادی پر خار بستر ہے
- چاہوں گر سیر چمن آنکھ دکھاتا ہے مجھے
- نہیں ہے باوجود ضعف سیر بے خودی آساں
- قیس نے از بس کہ کی سیر گریباں نفس
- جز غبار کردہ سیر آہنگی پرواز کو
- ہمارا دیکھنا گر ننگ ہے سیر گلستاں کر
- بیم طبع نازک خوباں سے وقت سیر باغ
- سیر ملک حسن کر میخانہ ہا نذر خمار
- ہے دست رد بہ سیر جہاں بستن نظر
- سیر کے واسطے تھوڑی سی فضا اور سہی
- کریں خوباں جو سیر حسن اسدؔ یک پردہ نازک تر
- بے تاب سیر دل ہے سر ناخن نگار
- سیر آں سوئے تماشا ہے طلب گاروں کا
- جادۂ سیر دوجہاں یک مژہ خواب پا سمجھ
- چاہوں گر سیر چمن آنکھ دکھاتا ہے مجھے
- بہ پائے خفتہ سیر وادیٔ پر خار بستر ہے
- دل مت گنوا خبر نہ سہی سیر ہی سہی
- سویدا میں سیر عدم دیکھتے ہیں
- وعدۂ سیر گلستاں ہے خوشا طالع شوق
- بے چشم دل نہ کر ہوس سیر لالہ زار
- بھوکے نہیں ہیں سیر گلستاں کے ہم ولے
- ہوائے سیر گل آئینۂ بے مہریٔ قاتل
- اٹھے تھے سیر گل کو دیکھنا شوخی بہانے کی
- سیر ملک حسن کر مے خانہ ہا نذر خمار
- مدت ہوئی ہے سیر چراغاں کیے ہوئے
- آؤ نہ ہم بھی سیر کریں کوہ طور کی
- ہوس سیر و تماشا سو وہ کم ہے ہم کو
- عزم سیر نجف و طوف حرم ہے ہم کو
- غم فراق میں تکلیف سیر باغ نہ دو
- خاک صحراے نجف جوہر سیر عرفا
- سیر لہسن ترب مولی ترہ ساگ