سیاہ
14 Misre
- رنگ سیاہ نیل غبار سحاب ہے
- خال سیاہ رنگیں رخاں سے
- زلف سیاہ بھی شب مہتاب ہو گئی
- کعبۂ پوشش سیاہ مردمک احرام ہے
- خط سیاہ سے ہے گرد کارواں پیدا
- ظاہر ہے ہم سے کلفت بخت سیاہ روز
- خیمۂ لیلےٰ سیاہ و خانۂ مجنوں خراب
- ظاہر ہے ہم سے کلفت بخت سیاہ روز
- زلف سیاہ رخ پہ پریشاں کیے ہوئے
- مے سے غرض نشاط ہے کس رو سیاہ کو
- جسے نصیب ہو روز سیاہ میرا سا
- روئے سخن کسی کی طرف ہو تو رو سیاہ
- کہ تابع اس کے ہوں روز و شب سپید و سیاہ
- دشمن حسرت عاشق ہے رگ ابر سیاہ