سہی
58 Misre
- آپ نے مسنی الضر کہا ہے تو سہی
- یہ بھی یا حضرت ایوب گلا ہے تو سہی
- ذہن میں خوبی تسلیم و رضا ہے تو سہی
- نہ ملے داد مگر روز جزا ہے تو سہی
- نہ سہی لیک تمناے دوا ہے تو سہی
- نہ سہی ہم سے پر اس بت میں وفا ہے تو سہی
- کچھ نہ کچھ روز ازل تم نے لکھا ہے تو سہی
- شرۂ تیزی شمشیر قضا ہے تو سہی
- ہاتھ پر ہو ہاتھ تو درس تاسف ہی سہی
- میں ہوں مشتاق جفا مجھ پہ جفا اور سہی
- تم ہو بیداد سے خوش اس سے سوا اور سہی
- ہیں ہوس پیشہ بہت وہ نہ ہو اور سہی
- تم خداوند ہی کہلاؤ خدا اور سہی
- آپ کا شیوہ و انداز و ادا اور سہی
- کعبہ ایک اور سہی قبلہ نما اور سہی
- خلد بھی باغ ہے خیر آب و ہوا اور سہی
- سیر کے واسطے تھوڑی سی فضا اور سہی
- زہر کچھ اور سہی آب بقا اور سہی
- ایک بیداد گر رنج فزا اور سہی
- شرع و آئین پر مدار سہی
- بہت سہی غم گیتی شراب کم کیا ہے
- دل مت گنوا خبر نہ سہی سیر ہی سہی
- تیرا ہی عکس رخ سہی سامنے تیرے آئے کیوں
- ہاں وہ نہیں خدا پرست جاؤ وہ بے وفا سہی
- گر کیا ناصح نے ہم کو قید اچھا یوں سہی
- دل گزر گاہ خیال مے و ساغر ہی سہی
- جلوہ زار آتش دوزخ ہمارا دل سہی
- عشق مجھ کو نہیں وحشت ہی سہی
- میری وحشت تری شہرت ہی سہی
- کچھ نہیں ہے تو عداوت ہی سہی
- اے وہ مجلس نہیں خلوت ہی سہی
- غیر کو تجھ سے محبت ہی سہی
- آگہی گر نہیں غفلت ہی سہی
- دل کے خوں کرنے کی فرصت ہی سہی
- نہ سہی عشق مصیبت ہی سہی
- آہ و فریاد کی رخصت ہی سہی
- بے نیازی تری عادت ہی سہی
- گر نہیں وصل تو حسرت ہی سہی
- مجھ سے تمہیں نفرت سہی نیر سے لڑائی
- بھلا اسے نہ سہی کچھ مجھی کو رحم آتا
- گرمی سہی کلام میں لیکن نہ اس قدر
- نہ ہوئی گر مرے مرنے سے تسلی نہ سہی
- امتحاں اور بھی باقی ہو تو یہ بھی نہ سہی
- شوق گلچین گلستان تسلی نہ سہی
- ایک دن گر نہ ہوا بزم میں ساقی نہ سہی
- گر نہیں شمع سیہ خانۂ لیلی نہ سہی
- نوحۂ غم ہی سہی نغمۂ شادی نہ سہی
- گر نہیں ہیں مرے اشعار میں معنی نہ سہی
- نہ ہوئی غالبؔ اگر عمر طبیعی نہ سہی
- تکلف بر طرف نظارگی میں بھی سہی لیکن
- شرم اک ادائے ناز ہے اپنے ہی سے سہی
- وہ نیشتر سہی پر دل میں جب اتر جاوے
- بوسہ نہیں نہ دیجیے دشنام ہی سہی
- ہم تھے مرنے کو کھڑے پاس نہ آیا نہ سہی
- قسمت بری سہی پہ طبیعت بری نہیں
- دل تھا کہ جو جان درد تمہید سہی
- بیتابی رشک و حسرت دید سہی
- تکرار روا نہیں تو تجدید سہی