سہرا
20 Misre
- چرخ تک دھوم ہے کس دھوم سے آیا سہرا
- چاند کا دائرہ لے زہرہ نے گایا سہرا
- کبھی چوما کبھی آنکھوں سے لگایا سہرا
- باندھنے کو جو ترے سر پہ اٹھایا سہرا
- جنبش باد سحر نے جو ہلایا سہرا
- بزم شادی ہے فلک کاہ کشاں ہے سہرا
- ہے تو کشتی میں ولے بحر رواں ہے سہرا
- خوش ہو اے بخت کہ ہے آج ترے سر سہرا
- باندھ شہزادہ جواں بخت کے سر پر سہرا
- ہے ترے حسن دل افروز کا زیور سہرا
- مجھ کو ڈر ہے کہ نہ چھینے ترا لمبر سہرا
- ورنہ کیوں لائے ہیں کشتی میں لگا کر سہرا
- تب بنا ہو گا اس انداز کا گز بھر سہرا
- ہے رگ ابر گہر بار سراسر سہرا
- رہ گیا آن کے دامن کے برابر سہرا
- چاہیے پھولوں کا بھی ایک مقرر سہرا
- گوندھے پھولوں کا بھلا پھر کوئی کیوں کر سہرا
- کیوں نہ دکھلاوے فروغ مہ و اختر سہرا
- لائے گا تاب گراں باری گوہر سہرا
- دیکھیں اس سہرے سے کہدے کوئی بڑھ کر سہرا