سکے
16 Misre
- کون گل سے ضعف و خاموشی بلبل کہہ سکے
- تا رکھ نہ سکے کوئی مرے حرف پر انگشت
- ورنہ کیا ہو نہ سکے نالہ بساماں مجھ سے
- گر زلف یار کھنچ نہ سکے شانہ کھینچیے
- کہ سرد ہو نہ سکے اس کا مصرع ثانی
- ہو سکے ہے پردۂ جوشیدن خون جگر
- ہو سکے کب کلفت دل مانع سیلان اشک
- تا رکھ نہ سکے کوئی مرے حرف پر انگشت
- جو واں نہ کھنچ سکے سو وہ یاں آ کے دم ہوئے
- احباب چارہ سازی وحشت نہ کر سکے
- کہہ سکے کون کہ یہ جلوہ گری کس کی ہے
- ہو سکے کیا خاک دست و بازوئے فرہاد سے
- ورنہ کیا ہو نہ سکے نالہ بساماں مجھ سے
- کوئی واں سے نہ آ سکے یاں تک
- آدمی واں نہ جا سکے یاں کا
- کہہ سکے ساری حقیقت ہم نہ اس کے رو برو