سوے
14 Misre
- روز روشن شام آں سوے خیال
- چار سوے عشق میں صاحب دکانی مفت ہے
- دیکھیے مت چشم کم سے سوے ضبط افسردگاں
- اب چار سوے عشق سے دوکاں اٹھائیے
- طلسم مستی دل آں سوے ہجوم سر شک
- ہجوم گریہ سوے دل خوشا سرمایۂ طوفاں
- قیس بھاگا شہر سے شرمندہ ہو کر سوے دشت
- شکست ساز خیال آں سوے گریوۂ غم
- شکست قیمت دل آں سوے عذر شناسائی
- اگر ابر سیہ مست از سوے کہسار ہو پیدا
- بہار سنبلستان جلوہ گر ہے آں سوے دریا
- نظرے سوے کہستاں نہیں غیر شیشہ ساماں
- نہیں شاہراہ اوہام بجز آں سوے سیدن
- بزم یاس آں سوے پیدائی و اخفار نگیں