سوز
29 Misre
- ہے تماشا گاہ سوز تازہ ہر یک عضو تن
- اثر سوز محبت کا قیامت بے محابا ہے
- تپیدن دل کو سوز عشق میں خواب فرامش ہے
- ہے شفق سوز جگر کی آگ کی بالیدگی
- شام غم میں سوز عشق آتش رخسار سے
- ہر رنگ سوز پردۂ یک ساز ہے مجھے
- حریف عرض سوز دل نہیں ہے
- سوز دل کا کیا کرے باران اشک
- شب کہ برق سوز دل سے زہرۂ ابر آب تھا
- ضبط سوز دل ہے وجہ حیرت اظہار حال
- ناکامی نگاہ ہے برق نظارہ سوز
- وصل میں وہ سوز شمع مجلس تقریر ہے
- ناکامی نگاہ ہے برق نظارہ سوز
- دل مرا سوز نہاں سے بے محابا جل گیا
- دل بہ سوز آتش داغ تمنا جل گیا
- آپ ہی ہو نظارہ سوز پردے میں منہ چھپائے کیوں
- رخ نگار سے ہے سوز جاودانی شمع
- شب کہ برق سوز دل سے زہرۂ ابر آب تھا
- نے وہ سرور و سوز نہ جوش و خروش ہے
- ولے مشکل ہے حکمت دل میں سوز غم چھپانے کی
- شام غم میں سوز عشق آتش رخسار سے
- اثر سوز محبت کا قیامت بے محابا ہے
- سوز غم ہائے نہانی اور ہے
- کفر سوز اس کا وہ جلوہ ہے کہ جس سے ٹوٹے
- وضع سوز و نم و رم و آرام
- ہے سوز جگر کا بھی اسی طور کا حال
- دل سوز جنوں سے جلوہ منظر ہے آج
- نظارہ سوز ہے یاں تک ہر ایک ذرہ خاک
- نیاز عشق خرمن سوز اسباب ہوس بہتر