سوا
17 Misre
- رنج طاقت سے سوا ہو تو نہ پیٹوں کیوں کر
- تم ہو بیداد سے خوش اس سے سوا اور سہی
- جلوۂ گل کے سوا گرد اپنے مدفن میں نہیں
- ہے سوا نیزے پہ اس کے قامت نوخیز سے
- تیرے سوا بھی ہم پہ بہت سے ستم ہوئے
- بے طلب دیں تو مزا اس میں سوا ملتا ہے
- تن سے سوا فگار ہیں اس خستہ تن کے پاؤں
- آج کچھ درد مرے دل میں سوا ہوتا ہے
- اے آہ میری خاطر وابستہ کے سوا
- کیا خیمۂ شبیر سے رتبے میں سوا ہے
- کہ سوا تیرے کوئی اس کا خریدار نہیں
- تاج زریں مہر تاباں سے سوا
- اس رشتے میں لاکھ تار ہوں بلکہ سوا
- اتنے ہی برس شمار ہوں بلکہ سوا
- ایسی گرہیں ہزار ہوں بلکہ سوا
- تو پھر کہیں کہ کچھ اس سے سوا کہیں اس کو
- کپڑوں میں جویں بخیے کے ٹانکوں سے سوا ہیں