سوئے
11 Misre
- سیر آں سوئے تماشا ہے طلب گاروں کا
- پھر وہ سوئے چمن آتا ہے خدا خیر کرے
- چار سوئے دہر میں بازار غفلت گرم ہے
- بے پردہ سوئے وادی مجنوں گزر نہ کر
- نظرے سوئے کہستاں نہیں غیر شیشہ ساماں
- اب چار سوئے عشق سے دوکاں اٹھائیے
- حلقے ہیں چشم ہاۓ کشادہ بہ سوئے دل
- تو اور سوئے غیر نظر ہائے تیز تیز
- رو سوئے قبلہ وقت مناجات چاہیے
- پرافشاں ہے غبار آں سوئے صحرائے عدم میرا
- کہ روئے غنچۂ گل سوئے آشیاں پھر جائے