سو
48 Misre
- جو دانہ دام میں ہے سو اشک کباب ہے
- مدعا گم کردہ ہر سو ہر طرف جلتا ہوں میں
- ایک جا حرف وفا لکھا تھا سو بھی مٹ گیا
- ہم نے سو زخم جگر پر بھی زباں پیدا نہ کی
- طراوت سحر ایجادی اثر یک سو
- جو خط ہے کف پا پہ سو ہے سلسلۂ پا
- خرمن بباد وا دعوے ہیں بہو سو ہو
- قطرہ جو آنکھوں سے ٹپکا سو نگاہ آلودہ ہے
- جو تری بزم سے نکلا سو پریشاں نکلا
- جس کو دل کہتے تھے سو تیر کا پیکاں نکلا
- آہ جو قطرہ نہ نکلا تھا سو طوفاں نکلا
- ایک جا حرف وفا لکھا تھا سو بھی مٹ گیا
- کھل گئی مانند گل سو جا سے دیوار چمن
- سو رہتا ہے بہ انداز چکیدن سرنگوں وہ بھی
- چار موج اٹھتی ہے طوفان طرب سے ہر سو
- جو واں نہ کھنچ سکے سو وہ یاں آ کے دم ہوئے
- کروں عذر ترک صحبت سو کہاں وہ بے دماغی
- بھاگے تھے ہم بہت سو اسی کی سزا ہے ی
- ہم نے چاہا تھا کہ مر جائیں سو وہ بھی نہ ہوا
- جو دانہ دام میں ہے سو اشک کباب ہے
- تھے یہ ہی دو حساب سو یوں پاک ہو گئے
- اگا ہے گھر میں ہر سو سبزہ ویرانی تماشا کر
- جو تری بزم سے نکلا سو پریشاں نکلا
- آہ جو قطرہ نہ نکلا تھا سو طوفاں نکلا
- جس کو دل کہتے تھے سو تیر کا پیکاں نکلا
- جو نہ دیکھا تھا سو آئینے میں پنہاں نکلا
- اک شمع ہے دلیل سحر سو خموش ہے
- اک شمع رہ گئی ہے سو وہ بھی خموش ہے
- خوشی کیا کھیت پر میرے اگر سو بار ابر آوے
- کف افسوس سو دن عہد تجدید تمنا ہے
- سواے خون جگر سو جگر میں خاک نہیں
- تم نہ آؤ گے تو مرنے کی ہیں سو تدبیریں
- ہوس سیر و تماشا سو وہ کم ہے ہم کو
- وہ جو رکھتے تھے ہم اک حسرت تعمیر سو ہے
- سو گز زمیں کے بدلے بیاباں گراں نہیں
- جو تھا سو موج رنگ کے دھوکے میں مر گیا
- سو بار بند عشق سے آزاد ہم ہوئے
- سو اناج کے جو ہے مقلوب جاں
- فقط گوشت سو بھیڑ کا ریشے دار
- سو پشت سے ہے پیشۂ آبا سپہ گری
- کروں عذر ترک صحبت سو کہاں وہ بے دماغی
- کہ اجابت کہے ہر حرف پہ سو بار آمیں
- تو وا کرے اس عقدے کو سو بھی بہ اشارت
- ابھی حساب میں باقی ہیں سو ہزار گرہ
- سنین عیسوی اٹھارہ سو اور اٹھاون
- سو اس اکیس دن میں ہولی کی
- یک طرف نازش مژگان و دگر سو غم خار
- گن کر دیویں گے ہم دعائیں سو بار