سنگ
65 Misre
- کہ رگ سے سنگ میں تخم شرر کا ریشہ پیدا ہے
- کف افسوس فرصت سنگ کوہ طور ملتے ہیں
- نگیں میں جوں شرار سنگ ناپید ہے نام اس کا
- شرار سنگ بت بہر بناے اعتقاد آتش
- وہ سبزہ سنگ پر نہ اگا کوہکن ہنوز
- خلوت سنگ میں ہے نالہ طلبگار ہنوز
- سنگ آمد و سخت آمد درد سر خودداری
- ہے سنگ پر برات معاش جنون عشق
- ہمیں حریر شرر باف سنگ خلعت ہے
- ہے شرر موہوم اگر رکھتا نہ ہووے سنگ دل
- ہے رگ سنگ فسان تیغ شعاہ خار و خس
- ہے سنگ ظلم چرخ سے میخانے میں اسدؔ
- جواب سنگ دلی ہاے دشمناں ہمت
- فسان تیغ نازک قاتلاں سنگ جراحت ہے
- ورنہ ہر سنگ کے باطن میں شرر پنہاں ہے
- پھر شیشے سے عطر شرر سنگ نکالوں
- تھا حریر سنگ سے قطع کفن کی فکر میں
- دامان صد کفن تہ سنگ مزار ہے
- ہوا ہے نقشبند آئنہ سنگ مزار اپنا
- رنگ ہے سنگ محک دعواے مینائی عبث
- شرار سنگ انداز چراغ از چشم جستن ہا
- شرار سنگ سے پادرحنا گلگون شیریں ہے
- شرر کیفیت مے سنگ محو ناز مینائی
- لگے گر سنگ سر پر یار کے دست نگاریں سے
- رگ ہر سنگ سے نبض دل بیمار ہو پیدا
- بہ سنگ شیشہ توڑوں ساقیا پیمانہ پیماں
- وہ سنگ کہ گلدستۂ جوش شرر آوے
- ہر سنگ وحشت ہے صدف گوہر شکست
- تھا یہ کم وزن کہ ہم سنگ کف خاک چڑھا
- گرد ساحل سنگ راہ جوشش دریا نہیں
- ہر پارہ سنگ لخت دل کوہ طور تھا
- یاں سنگ آستانۂ بیدلؔ ہے آئنہ
- ہوا ہے نقشبند آئنہ سنگ مزار اپنا
- ہر پارہ سنگ لخت دل کوہ طور تھا
- ہر سنگ و خشت ہے صدف گوہر شکست
- شرار سنگ نے تربت پہ میری گل فشانی کی
- جو گداز دل ہو مطلب تو چمن ہے سنگ جانی
- بہم بالیدن سنگ و گل صحرا یہ چاہے ہے
- دل ہی تو ہے نہ سنگ و خشت درد سے بھر نہ آئے کیوں
- بن گیا ہیں تیغ نگاہ یار کا سنگ فساں
- ننگ سجدہ سے میرے سنگ آستاں اپنا
- سنگ سے سر مار کر ہووے نہ پیدا آشنا
- دست تۂ سنگ آمدہ پیمان وفا ہے
- ہے سنگ پر برات معاش جنون عشق
- ہوئی قطرہ فشانی ہائے مے باران سنگ آخر
- وہ سبزہ سنگ پر نہ اگا کوہکن ہنوز
- لذت سنگ بہ اندازۂ تقریر نہیں
- کہ رگ سے سنگ میں تخم شرر کا ریشہ پیدا ہے
- کرے ہے سنگ پر خورشید آب روئے کار آتش
- خلوت سنگ میں ہے نالہ طلبگار ہنوز
- سنگ اٹھایا تھا کہ سر یاد آیا
- قدر سنگ سر رہ رکھتا ہوں
- تو پھر اے سنگ دل تیرا ہی سنگ آستاں کیوں ہو
- بال شیشے کا رگ سنگ فساں ہو جائے گا
- ہم ہیں تو ابھی راہ میں ہے سنگ گراں اور
- رگ سنگ سے ٹپکتا وہ لہو کہ پھر نہ تھمتا
- جو گداز دل ہو مطلب تو چمن ہے سنگ جانی
- آستاں پر ہے ترے جوہر آئینۂ سنگ
- سنگ یہ کار گہ ربط نزاکت ہے کہ ہے
- بے ستوں سبزے سے ہے سنگ زمرد کا مزار
- سینۂ سنگ پہ کھینچے ہے الف بال شرار
- باندھے زنار رگ سنگ میان کہسار
- یاں تک انصاف نوازی کہ اگر ریزۂ سنگ
- کیکڑا سرطان ہے کچھوا سنگ پشت
- سقف چھت ہے سنگ پتھر اینٹ خشت