سنا
5 Misre
وہ کہیں اور سنا کرے کوئی
مانا کہ تم کہا کیے اور وہ سنا کیے
غالبؔ ترا احوال سنا دیں گے ہم ان کو
گفتۂ غالبؔ ایک بار پڑھ کے اسے سنا کہ یوں
پر نصیب اپنا انھیں جاتا سنا جوں پھر گئے
س
All Letters