سن
22 Misre
- رنگ یاں بوسے سوار تو سن چالاک ہے
- اسدؔ کو زیست تھی مشکل اگر نہ سن لیتا
- پسینہ تو سن ہمت کا سیل خانۂ زیں ہے
- قیامت ہے کہ سن لیلیٰ کا دشت قیس میں آنا
- وہ فلک رتبہ کہ بر تو سن چالاک چڑھا
- نہیں ہے سایہ کہ سن کر نوید مقدم یار
- سن لیتے ہیں گو ذکر ہمارا نہیں کرتے
- وہ سن کے بلا لیں یہ اجارا نہیں کرتے
- اس کی بزم آرائیاں سن کر دل رنجور یاں
- بلبلیں سن کر مرے نالے غزل خواں ہو گئیں
- سن کے ستم ظریف نے مجھ کو اٹھا دیا کہ یوں
- قیامت ہے کہ سن لیلی كا دشت قیس میں آنا
- سن اے غارت گر جنس وفا سن
- ہاتھ میں تیرے رہے تو سن دولت کی عناں
- سن اے ندیم برس گانٹھ کے یہ تاگے نے
- تو نہیں جانتا تو مجھ سے سن
- سن سن کے اسے سخنوران کامل
- دل نے سن کر کانپ کر کھا پیچ و تاب
- ہاتف غیب سن کے یہ چیخا
- روئی کو کہتے ہیں پنبہ سن رکھو
- آم کو کہتے ہیں انبہ سن رکھو
- کچھ نہیں کہتا کسی سے سن رہا ہوں سب کی بات