سمجھے
15 Misre
- پنجۂ خرشید کو سمجھے ہیں دست شانہ ہم
- متاع بردہ کو سمجھے ہوئے ہیں قرض رہزن پر
- ہم غلط سمجھے تھے لیکن زخم دل پر رحم کر
- اس جفا مشرب پہ عاشق ہوں کہ سمجھے ہے اسدؔ
- کچھ نہ سمجھے خدا کرے کوئی
- متاع بردہ کو سمجھے ہوئے ہیں قرض رہزن پر
- دونوں جہان دے کے وہ سمجھے یہ خوش رہا
- آشنا کی ہم دگر سمجھے ہے ایما آشنا
- ہم اپنے زعم میں سمجھے ہوئے تھے اس کو دم آگے
- پنجۂ خورشید کو سمجھے ہیں دست شانہ ہم
- ہم سمجھے ہوئے ہیں اسے جس بھیس میں جو آئے
- طوطی کا عکس سمجھے ہے زنگار دیکھ کر
- دل کو ہم صرف وفا سمجھے تھے کیا معلوم تھا
- یارب وہ نہ سمجھے ہیں نہ سمجھیں گے مری بات
- کیا ہے ارض اور مرز تم سمجھے زمیں