سمجھا
24 Misre
- حسرت عرض تمنا یاں سے سمجھا چاہئے
- سمجھا ہوا ہوں عشق میں نقصاں کو فائدہ
- سمجھا ہوں زرہ جوہر شمشیر عسس کو
- حسرت عرض تمنا یاں سے سمجھا چاہیے
- غیر سمجھا ہے کہ لذت زخم سوزن میں نہیں
- سمجھا ہوں دل پذیر متاع ہنر کو میں
- کوئی مجھ کو یہ تو سمجھا دو کہ سمجھاویں گے کیا
- حسرت عرض تمنا یاں سے سمجھا چاہیے
- کھیل سمجھا ہے کہیں چھوڑ نہ دے بھول نہ جائے
- وہ مری چین جبیں سے غم پنہاں سمجھا
- راز مکتوب بہ بے ربطی عنواں سمجھا
- چاک کرتا ہوں میں جب سے کہ گریباں سمجھا
- اس قدر تنگ ہوا دل کہ میں زنداں سمجھا
- رخ پہ ہر قطرہ عرق دیدۂ حیراں سمجھا
- نبض خس سے تپش شعلۂ سوزاں سمجھا
- ہر قدم سائے کو میں اپنے شبستاں سمجھا
- دفع پیکان قضا اس قدر آساں سمجھا
- غلطی کی کہ جو کافر کو مسلماں سمجھا
- شعلۂ عشق کو اپنا سر و ساماں سمجھا
- چاہنے کو تیرے کیا سمجھا تھا دل
- بارے اب اس سے بھی سمجھا چاہیے
- مجھ کو سمجھا ہے کیا کہیں نمام
- سمجھا اسے گراب ہوا پاش پاش دل
- سمجھا تھا نبی نے ان کو اپنا ہمدم