سمجھ
31 Misre
- رتبۂ تسلیم خلت مشرباں عالی سمجھ
- کلفت ربط این و آں غفلت مدعا سمجھ
- شوق کرے جو سر گراں محمل خواب پا سمجھ
- عکس کجا و کو نظر نقش کو مدعا سمجھ
- گر کف دست بام ہے آئنے کو ہوا سمجھ
- ہے یہ سیاق گفتگو کچھ نہ سمجھ فنا سمجھ
- گر نہ مٹیں یہ کوہسار آپ کو تو صدا سمجھ
- رند تمام ناز رہ خلق کو پارسا سمجھ
- کل ہے جو وعدۂ وصال آج بھی اے خدا سمجھ
- اے دل و جان خلق تو ہم کو آشنا سمجھ
- ٹوٹے گر آئنہ اسدؔ سبحہ کو خوں بہا سمجھ
- مدعا در پردہ یعنی جو کہوں باطل سمجھ
- شکوہ و شکر کو ثمر بیم و امید کا سمجھ
- خانۂ آگہی خراب دل نہ سمجھ بلا سمجھ
- آئنہ توڑ اے خیال جلوے کو خوں بہا سمجھ
- رشتۂ عمر خضر کو نالۂ نارسا سمجھ
- جادۂ سیر دوجہاں یک مژہ خواب پا سمجھ
- گرچہ خدا کی یاد ہے کلفت ماسوا سمجھ
- خار کو بے نیام جان ہم کو برہنہ پا سمجھ
- شوق کو منفعل نہ کر ناز کو التجا سمجھ
- بسمل درد خفتہ ہوں گریے کو ماجرا سمجھ
- سمجھ اس فصل میں کوتاہی نشو و نما غالبؔ
- سمجھ کے کرتے ہیں بازار میں وہ پرسش حال
- مے کشی کو نہ سمجھ بے حاصل
- گدا سمجھ کے وہ چپ تھا مری جو شامت آئی
- آنا ہی سمجھ میں مری آتا نہیں گو آئے
- دشمن سمجھ ولے نگۂ آشنا نہ مانگ
- جسے غم سمجھ رہے ہو یہ اگر شرار ہوتا
- مے کشی کو نہ سمجھ بے حاصل
- کچھ سمجھ میں نہیں آتا ہے کہ کیا ہوتا ہے
- اصل بستر ہے سمجھ لو تم ذرا