سفر
17 Misre
- خالی مجھے دکھلا کے بوقت سفر انگشت
- دریغا بستن رخت سفر سے ہو کے میں غافل
- قطع سفر ہستی و آرام فنا ہیچ
- ہے ذوق گریہ عزم سفر کیجیے اسدؔ
- سواد شعر در گرد سفر ہے
- میرا سفر بہ طالع چشم حسود تھا
- خالی مجھے دکھلا کے بہ وقت سفر انگشت
- جانا کہ اک بزرگ ہمیں ہم سفر ملے
- جب بہ تقریب سفر یار نے محمل باندھا
- میرا سفر بہ طالع چشم حسود تھا
- غالبؔ گر اس سفر میں مجھے ساتھ لے چلیں
- طاقت رنج سفر بھی نہیں پاتے اتنی
- سفر عشق میں کی ضعف نے راحت طلبی
- پھر ترا وقت سفر یاد آیا
- قیامت ہے کہ ہووے مدعی کا ہم سفر غالبؔ
- کرتی ہے عاجزیٔ سفر سوختن تمام
- دود چراغ خانہ غبار سفر ہے آج