سرشک
11 Misre
- غالبؔ زبس کہ سوکھ گئے چشم میں سرشک
- سرشک آشفتہ سر تھا قطرہ زن مژگا ں سے جانے میں
- عرض سرشک پر ہے فضاے زمانہ تنگ
- فال رسوائی سرشک سر بہ صحرا دادہ سے
- سرشک سر بہ صحرا دادہ نور العین دامن ہے
- عرض سرشک پر ہے فضاۓ زمانہ تنگ
- کہ سرشک قطرہ زن ہے بہ پیام دل رسانی
- قیامت ہے سرشک آلودہ ہونا تیری مژگاں کا
- طرز خراش نالہ سرشک نمک اثر
- سرشک آشفتہ سر تھا قطرہ زن مژگاں سے جانے میں
- نہ سووے آبلوں میں گر سرشک دیدۂ نم سے