سرد
16 Misre
- بہ غرور طرح قامت و رعنائی سرد
- عیش گرم اضطراب و اہل غفلت سرد مہر
- ہے دم سرد صبا سے گرمی بازار باغ
- بجائے خود وگر نہ سرد بھی میناے خالی ہے
- مصرع سرد چمن ہے حسب حال عندلیب
- طوق قمری میں ہے سرد باغ ریحان سفال
- کہ ہوتی ہے زیادہ سرد مہری شمع رویاں کی
- خوے شرم سرد بازاری ہے سیل خانماں
- نے سرد برگ آرزو نے رہ و رسم گفتگو
- عدم میں بہر فرق سرد مشت خاک باقی ہے
- سوداے عشق سے دم سرد کشیدہ ہوں
- کہ سرد ہو نہ سکے اس کا مصرع ثانی
- آمد خط سے ہوا ہے سرد جو بازار دوست
- نہ دیکھیں روئے یک دل سرد غیر از شمع کافوری
- ضعف سے گریہ مبدل بہ دم سرد ہوا
- ہمت و نشو و نما میں یہ بلندی ہے کہ سرد