سراپا
17 Misre
- ہوں سراپا یک خم تسلیم جو مولا کرے
- زخم مثل گل سراپا کا مرے پیرایہ ہے
- جوں صنوبر دل سراپا قامت آرائی نہیں
- دل سراپا وقف سوداے نگاہ تیز ہے
- جوں زلف یار ہوں میں سراپا شکستہ دل
- سراپا رہن عشق و ناگزیر الفت ہستی
- سراپا شبنم آئیں یک نگاہ پاک باقی ہے
- نالہ کھینچا ہے سراپا داغ جرأت ہوں اسدؔ
- وہ لوگ رفتہ رفتہ سراپا الم ہوئے
- خوشا وہ دل کہ سراپا طلسم بے خبری ہو
- بسکہ شوق آتش گل سے سراپا جل گیا
- سراپا رہن عشق و نا گزیر الفت ہستی
- سراپا یک آئینہ دار شکستن
- ہوں سراپا ساز آہنگ شکایت کچھ نہ پوچھ
- دل سراپا وقف سودائے نگاہ تیز ہے
- دھول دھپا اس سراپا ناز کا شیوہ نہیں
- کہاں تک اے سراپا ناز کیا کیا