سر
244 Misre
- ہے بر سر مژہ نگراں دیدبان اشک
- ٹیڑھا لگا ہے قط قلم سر نوشت کو
- عالم طلسم شہر خموشاں ہے سر بسر
- زبان ہر سر مو حال دل پر سیدنی جانے
- سر شک چشم اسدؔ کیوں نہ اس میں گوہر ہو
- سر بزانوے کرم رکھتی ہے شرم نا کسی
- ناتوانی سے نہیں سر در گریبانی اسدؔ
- نہ سووے آبلوں میں گر سر شک دیدۂ نم سے
- سر شک چشم یار آب دم شمشیر ابرو ہے
- بہ پاس شوخی مژگاں سر ہر خار سوزن ہے
- زمانے کے شب یلداسے موے سر پریشاں ہیں
- اسدؔ سودائے سر سبزی سے ہے تسلیم رنگیں تر
- سر تار نظر ہے رشتۂ تسبیح کوکب ہا
- معمائے تکلف سر بہمر چشم پوشیدن
- اے سر شوریدہ ذوق عشق و پاس آبرو
- آنکھ کی تصویر سر نامے پہ کھینچی ہے کہ تا
- در خیال آباد سوداے سر مژگان دوست
- ہے سر مصراع صاف تیغ خنجر مستزاد
- حسن و رعنائی میں وہم صد سر و گردن ہے فرق
- سنبل بالیدہ کو موے سر دیوانہ ہم
- ننگ بالیدن ہیں جوں ہوئے سر دیوانہ ہم
- بے درد سر بہ سجدۂ الفت فرو نہ ہو
- چیونٹی کے پر سر و برگ خود آرائی نہیں
- جوں جادہ سر بہ کوے تمناے بیدلی
- مغرور نہ ہو ناداں سر تا سرگیتی ہے
- اے چرخ خاک بر سر تعمیر کائنات
- ہے زبان پاسباں خار سر دیوار باغ
- وسعت سعی کرم دیکھ کہ سر تا سر خاک
- گل سر بسر اشارۂ جیب دریدہ ہے
- افسانۂ زلف یار سر کر
- سنگ آمد و سخت آمد درد سر خودداری
- بہ گرد سر مہ انداز نگاہ شرمگیں پایا
- پریشانی سے مغز سر ہوا ہے پنبہ بالش
- بے سر و ساماں اسدؔ فتنہ سر انجام ہے
- قرص کافوری ہے مہر از بہر سر ماخوردگاں
- عروج نشہ ہے سر تا قدم قد چمن رویاں
- کہ تار جادۂ سر منزل نازک خیالی ہے
- ضبط جنوں سے ہر سر مو ہے ترانہ خیز
- نذر خراش نالہ سر شک نمک اثر
- سر نوشت خلق ہے طغراے عجز اختیار
- بہ رنگ جادہ سر کوے یار رکھتے ہیں
- طلسم مستی دل آں سوے ہجوم سر شک
- وحشت زخم وفا دیکھ کہ سر تا سر دل
- شمع آسا چہ سر دعوی و کو پاے ثبات
- نہیں ہے سر نوشت عشق غیر از بے دماغی ہا
- گریاس سر نہ کھینچے تنگی عجب فضا ہے
- لطافت ہاے جوش حسن کا سر شیر ہے پیدا
- سر منزل ہستی سے ہے صحراے طلب دور
- نوک سر مژگاں سے رقم ہو گلۂ پا
- جوں داغ شعلہ سر خط آغاز ہے مجھے
- ہے سر نوشت میں رقم وا شکستگی
- نظر دانہ سر شک برزمیں افتادہ آتا ہے
- خیال دود تھا سر جوش سوداے غلط فہمی
- دیکھا ہے کسو کا جو حنا بستہ سر انگشت
- ہر شمع شہادت کو ہے یاں سر بسر انگشت
- ہر سر انگشت نوک خامۂ فرسودہ ہے
- مرگیا پھوڑ کے سر غالبؔ وحشی ہے ہے
- ہوا شرم تہہ دستی سے وہ بھی سر نگوں آخر
- اسدؔ از بس کہ فوج درد و غم سر گرم جولاں ہے
- بہ ہوس درد سر اہل سلامت تا چند
- سر شک بر زمیں افتادہ آسا
- سر شک آگیں مژہ سے دست از جاں شستہ ابرو تھا
- اسدؔ خاک در میخانہ اب سر پر اڑاتا ہوں
- گر نہ باندھے قلزم الفت میں سر جاے کدو
- سر پر مرے وبال ہزار آرزو رہا
- جاں دادۂ ہواے سر رہ گزار تھا
- کیا کس شوخ نے ناز از سر تمکیں تشستن کا
- شوق کرے جو سر گراں محمل خواب پا سمجھ
- جلوہ نہیں ہے درد سر آئنہ صندلی نہ کر
- مغز سر خواب پریشاں ہے سخن کی فکر میں
- نالاں ہو اسدؔ تو بھی سر راہ گزر پر
- سر خوش خواب ہے وہ نرگس مخمور ہنوز
- فرو ہوتا ہے سر سجدے میں اے دست دعا گم ہو
- اسدؔ ہم وہ جنوں جولاں گداۓ بے سر و پا ہیں
- کہ ہے سر پنجۂ مژگان آہو پشت خار اپنا
- یک نگاہ گرم ہے جوں شمع سر تا پا گداز
- فغان و آہ سے حاصل بجز درد سر یاراں
- سر معنی بہ گریبان شق خامہ اسدؔ
- موے دماغ وحشت سر رشتۂ فنا ہے
- ننگ بالیدن ہیں جوں موے سر دیوانہ ہم
- بے تاب سیر دل ہے سر ناخن نگار
- لگے گر سنگ سر پر یار کے دست نگاریں سے
- دیوار سے اپنے سر کو پھوڑے
- سرشک آشفتہ سر تھا قطرہ زن مژگا ں سے جانے میں
- نہ کر سر گرم اس کافر کی الفت آزمانے میں
- دوران سر سے گردش ساغر ہے متصل
- دیتا ہوں کشتگاں کو سخن سے سر تپش
- سر خط بند ہوا نامہ گنہ گاروں کا
- دست موسیٰ بہ سر دعوی باطل باندھا
- ناخن غم یاں سر تار نفس مضراب تھا
- یاں سر پر شور بے خوابی سے تھا دیوار جو
- کبھی تو اس سر شوریدہ کی بھی داد ملے
- بار لائی ہے دانہ ہاے سر شک
- جادۂ رہ سر بسر مژگان چشم دام ہے
- سر تا قدم گزارش ذوق سجود تھا
- آخر کار گرفتار سر زلف ہوا
- گر ہے سر دریوزگی جلوۂ دیدار
- سر میں ہواے گلشن دل میں غبار صحرا
- یہ سر نوشت میں میری ہے اشک افشانی
- ظاہرا سر پنجۂ افتادگاں گیرا نہیں
- مہ ز سر تا ناخن پا رزق یک شگبیر ہے
- جز آہ کہ سر لشکر وحشت علمی ہے
- کس دن ہمارے سر پہ نہ آرے چلا کیے
- اسدؔ ہم وہ جنوں جولاں گداۓ بے سر و پا ہیں
- کہ ہے سر پنجۂ مژگان آہو پشت خار اپنا
- دیکھا ہے کسو کا جو حنا بستہ سر انگشت
- سر کرے ہے وہ حدیث زلف عنبر بار دوست
- فال رسوائی سرشک سر بہ صحرا دادہ سے
- سر پر ہجوم درد غریبی سے ڈالیے
- کون جیتا ہے تری زلف کے سر ہوتے تک
- وحشت زخم وفا دیکھ کہ سر تا سر دل
- شمع آسا چہ سر دعویٰ و کو پاۓ ثبات
- جاں دادۂ ہوائے سر رہ گزار تھا
- آنکھ کی تصویر سر نامے پہ کھینچی ہے کہ تا
- در خیال آباد سودائے سر مژگان دوست
- اے سر شوریدہ ناز عشق و پاس آبرو
- جوہر تیغ بہ سر چشمۂ دیگر معلوم
- بسکہ رکھتی ہے سر نشو و نما موج شراب
- سر سے گزرے پہ بھی ہے بال ہما موج شراب
- جو ہے تجھے سر سوداۓ انتظار تو آ
- کہ ناچتے ہیں پڑے سر بہ سر در و دیوار
- تم کو کہیں جو غالبؔ آشفتہ سر ملے
- میرا سر دامن بھی ابھی تر نہ ہوا تھا
- مرا سر رنج بالیں ہے مرا تن بار بستر ہے
- سرشک سر بہ صحرا دادہ نور العین دامن ہے
- معمائے تکلف سر بمہر چشم پوشیدن
- اشک کو بے سر و پا باندھتے ہیں
- نوک ہر خار سے تھا بسکہ سر دزدیٔ زخم
- عالم غبار وحشت مجنوں ہے سر بہ سر
- سر بر ہوئی نہ وعدۂ صبر آزما سے عمر
- بیکاری جنوں کو ہے سر پیٹنے کا شغل
- سر تا قدم گزارش ذوق سجود تھا
- اچھا ہے سر انگشت حنائی كا تصور
- سر شمع نقش پا ہے بہ سپاس ناتوانی
- موج خوں سر سے گزر ہی کیوں نہ جائے
- سر پیٹتے ہیں اپنا ہم اور نیک نامی
- بہ پاس شوخیٔ مژگاں سر ہر خار سوزن ہے
- شمع رویاں کی سر انگشت حنائی دیکھ کر
- گر نفس جادۂ سر منزل تقوی نہ ہوا
- کہ یہ کہے کہ سر رہ گزر ہے کیا کہئے
- تمہیں نہیں ہے سر رشتۂ وفا کا خیال
- سوائے اس کے کہ آشفتہ سر ہے کیا کہئے
- شوریدگی کے ہاتھ سے ہے سر وبال دوش
- دی مرے بھائی کو حق نے از سر نو زندگی
- سنگ سے سر مار کر ہووے نہ پیدا آشنا
- جوہر آئینہ جز رمز سر مژگاں نہیں
- اترائے کیوں نہ خاک سر رہ گزار کی
- نہیں گر سر و برگ ادراک معنی
- سر خستہ دشوار وحشت سلامت
- نگاہ عجز سر رشتۂ سلامت ہے
- زخم مثل خندۂ قاتل ہے سر تا پا نمک
- سر بہ پاۓ بت نا نہادہ رکھتے ہیں
- عالم بے سر و سامانیٔ فرصت مت پوچھ
- بہ ہوس درد سر اہل سلامت تا چند
- یاں سر پر شور بے خوابی سے تھا دیوار جو
- ناخن غم یاں سر تار نفس مضراب تھا
- دست برسر سر بہ زانوئے دل مایوس تھا
- شوق ہر رنگ رقیب سر و ساماں نکلا
- ضبط جنوں سے ہر سر مو ہے ترانہ خیز
- انگور سعی بے سر و پائی سے سبز ہے
- ہر موج گرد راہ مرے سر کو دوش ہے
- کہ اپنے سائے سے سر پاؤں سے ہے دو قدم آگے
- غم دنیا سے گر پائی بھی فرصت سر اٹھانے کی
- سنبل بالیدہ کو موئے سر دیوانہ ہم
- ننگ بالیدن ہیں جوں موئے سر دیوانہ ہم
- جوں جادہ سر بہ کوئے تمناۓ بے دلی
- اس چمن میں ریشہ داری جس نے سر کھینچا اسدؔ
- سرشک آشفتہ سر تھا قطرہ زن مژگاں سے جانے میں
- مٹ جائے گا سر گر ترا پتھر نہ گھسے گا
- سر کھجاتا ہے جہاں زخم سر اچھا ہو جائے
- پایا سر ہر ذرہ جگر گوشۂ وحشت
- ہر گوشۂ بساط ہے سر شیشہ باز کا
- سر زیر بار منت درباں کیے ہوئے
- کیا یک سر گداز دل نیاز جوشش حسرت
- سر پائے خم پہ چاہیے ہنگام بے خودی
- مر گیا پھوڑ کے سر غالبؔ وحشی ہے ہے
- بات کچھ سر تو نہیں ہے کہ اٹھا بھی نہ سکوں
- گر چراغان سر رہ گزر باد نہیں
- بوجھ وہ سر سے گرا ہے کہ اٹھائے نہ اٹھے
- ہوا جب غم سے یوں بے حس تو غم کیا سر کے کٹنے کا
- خیال دود تھا سر جوش سودائے غلط فہمی
- اے ترا ظلم سر بہ سر انداز
- اس میں ہمارے سر پہ قیامت ہی کیوں نہ ہو
- سر اڑانے کے جو وعدے کو مکرر چاہا
- ہنس کے بولے کہ ترے سر کی قسم ہے ہم کو
- وسعت سعی کرم دیکھ کہ سر تا سر خاک
- فکر دنیا میں سر کھپاتا ہوں
- شعلۂ عشق کو اپنا سر و ساماں سمجھا
- ہے نگاہ آشنا تیرا سر ہر مو مجھے
- جستجوئے فرصت ربط سر زانو مجھے
- کہ زمیں ہو گئی ہے سر تا سر
- سنگ اٹھایا تھا کہ سر یاد آیا
- قدر سنگ سر رہ رکھتا ہوں
- سبک سر بن کے کیا پوچھیں کہ ہم سے سرگراں کیوں ہو
- وفا کیسی کہاں کا عشق جب سر پھوڑنا ٹھہرا
- از سر نو زندگی ہو گر رہا ہو جائیے
- فکر نالہ میں گویا حلقہ ہوں ز سر تا پا
- سر پھوڑنا وہ غالبؔ شوریدہ حال کا
- سر پر وبال سایۂ بال ہما نہ مانگ
- سر رشتہ چاک جیب کا تار نظر ہے آج
- سر جائے یا رہے نہ رہیں پر کہے بغیر
- کہتے ہو کیا لکھا ہے تری سر نوشت میں
- مرتا ہوں اس آواز پہ ہر چند سر اڑ جائے
- رکھتا ہو مثل سایۂ گل سر بہ پائے گل
- پیچھے ڈالی ہے سر رشتۂ اوقات میں گانٹھ
- وضع میں گو ہوئی دو سر تیغ ہے ذوالفقار ایک
- کشتۂ ذوق شعر کو شمع سر مزار ایک
- ناطقہ سر بہ گریباں کہ اسے کیا کہیے
- مسی آلودہ سر انگشت حسیناں لکھیے
- سر پستان پریزاد سے مانا کہیے
- ہندوستان کی بھی عجب سر زمین ہے
- سر آغاز موسم میں اندھے ہیں ہم
- خستگی کا ہو بھلا جس کے سبب سے سر دست
- باندھنے کو جو ترے سر پہ اٹھایا سہرا
- خوش ہو اے بخت کہ ہے آج ترے سر سہرا
- باندھ شہزادہ جواں بخت کے سر پر سہرا
- سر پہ چڑھنا تجھے پھبتا ہے پر اے طرف کلاہ
- سر شمع نقش پا ہے بسپاس ناتوانی
- کہ سر شک قطرہ زن ہے بہ پیام دل رسانی
- توڑے ہے نالہ سر رشتۂ پاس انفاس
- سر کرے ہے دل حیرت زدہ شغل تسکیں
- نہ سر و برگ ستایش نہ دماغ نفریں
- جلوہ رفتار سر جادۂ شرع تسلیم
- قطع ہوجائے نہ سر رشتۂ ایجاد کہیں
- اس کے مضروب کے سر و تن سے
- میری سنو کہ آج تم اس سر زمین پر
- کہ دشت و کوہ کے اطراف میں بہر سر راہ
- عکس موج گل و سر شاری انداز حباب
- ہے حنا کو سر ناخن سے گزرنا دشوار
- تھا سر سلسلہ جنبانی صد عمر ابد
- لیکن اس رشتۂ تحریر میں سر تا سر فکر
- اک نگار آتشیں رخ سر کھلا
- راز ہستی اس پر سر تا سر کھلا
- اے منشی خیرہ سر سخن ساز نہ ہو
- بھر کے بھیجے ہیں سر بمہر گلاس
- لے کے دل سر رشتۂ آزادگی
- اس قدر بگڑا کے سر کھانے لگا
- تو یوسف سا حسیں بکنے سر بازار آتا ہے
- دم واپسیں بر سر راہ ہے
- ہر موج گرد راہ مرے سر کو دوش ہے
- مرے سر سے کالی بلا باندھتے ہیں
- سر رشتۂ بیتابیٔ دل در گرہ عجز
- سر سے گر چادر اتارے ہے گلے لگ جا مرے
- تم جو فرماتے ہو دیکھ اے غالبؔ آشفتہ سر