سحر
26 Misre
- سحر گل ہاے نرگس چند چشم کور ملتے ہیں
- شکست رنگ کی لائی سحر شب سنبل
- شب تری تاثیر سحر شعلۂ آواز سے
- یہ شام غم آپ پر سحر کر
- طراوت سحر ایجادی اثر یک سو
- سحر از بہر شست و شوے داغ ماہ صابوں ہے
- شام ساے میں بہ تاراج سحر پنہاں ہے
- نقد صد دل بگریبان سحر پنہاں ہے
- سحر گہ باغ میں وہ حیرت گلزار ہو پیدا
- غبار خط رخ گرد سحر ہے
- شمع ہر رنگ میں جلتی ہے سحر ہوتے تک
- سات دن ہم پہ بھی بھاری ہیں سحر ہوتے تک
- اٹھیے بس اب کہ لذت خواب سحر گئی
- اک شمع ہے دلیل سحر سو خموش ہے
- وہ سحر مدعا طلبی میں نہ کام آئے
- جس سحر سے سفینہ رواں ہو سراب میں
- نالۂ مرغ سحر تیغ دو دم ہے ہم کو
- نور چراغ بزم سے جوش سحر ہے آج
- ہے پیچ تاب رشتۂ شمع سحر گہی
- ہاں نفس باد سحر شعلہ فشاں ہو
- یہ دعا شام و سحر قاضی حاجات سے ہے
- جنبش باد سحر نے جو ہلایا سہرا
- ہے گرچہ مجھے سحر طرازی میں مہارت
- تھی نظر بندی کیا جب رد سحر
- ہر رات شمع شام سے لے تا سحر جلے
- سات دن ہم پہ بھی بھاری ہیں سحر ہونے تک