ستم
51 Misre
- دز دیدن دل ستم آمادہ ہے محال
- ستم کشی کا کیا دل نے حوصلہ پیدا
- ترحم میں ستم کوشوں کے ہے سامان خونریزی
- ان ستم کیشوں کے کھائے ہیں زبس تیر نگاہ
- ستم کش مصلحت سے ہوں کہ خوباں تجھ پہ عاشق ہیں
- تیغ ستم کو پشت خم التجا کروں
- خوں کر دل اندیشہ و مضمون ستم باندھ
- سنبلستان جنوں ہوں ستم نسبت زلف
- دوستو مجھ ستم رسیدہ سے
- رقیب پر ہے اگر لطف تو ستم کیا ہے
- تیرے سوا بھی ہم پہ بہت سے ستم ہوئے
- تو دوست کسو کا بھی ستم گر نہ ہوا تھا
- دے مجھ کو شکایت کی اجازت کہ ستم گر
- نہ ستم کر اب تو مجھ پر کہ وہ دن گئے کہ ہاں تھی
- کہ ستم کش جنوں ہوں نہ بقدر زندگانی
- وہ ستم گر مرے مرنے پہ بھی راضی نہ ہوا
- ستم بہائے متاع ہنر ہے کیا کہئے
- ستم کش مصلحت سے ہوں کہ خوباں تجھ پہ عاشق ہیں
- تیغ ستم آئینۂ تصویر نما ہے
- گو میں رہا رہین ستم ہائے روزگار
- دزدیدن دل ستم آمادہ ہے محال
- سن کے ستم ظریف نے مجھ کو اٹھا دیا کہ یوں
- غریب ستم دیدۂ باز گشتن
- تیغ ستم کو پشت خم التجا کروں
- آخر ستم کی کچھ تو مکافات چاہیے
- زہر ملتا ہی نہیں مجھ کو ستم گر ورنہ
- ستم اتنا تو نہ کیجے کہ اٹھا بھی نہ سکوں
- نالہ جز حسن طلب اے ستم ایجاد نہیں
- رہی نہ طرز ستم کوئی آسماں کے لیے
- وہ بھی دن ہو کہ اس ستم گر سے
- اپنے کو دیکھتا نہیں ذوق ستم کو دیکھ
- ہم وہ عاجز کہ تغافل بھی ستم ہے ہم کو
- کثرت جور و ستم سے ہو گیا ہوں بے دماغ
- کہ حسرت سنج ہوں عرض ستم ہائے جدائی کا
- کہ حسرت کش رہا عرض ستم ہائے جدائی کا
- نے اسدؔ جفا سائل نے ستم جنوں مائل
- نہ کہیو طعن سے پھر تم کہ ہم ستم گر ہیں
- خدا سے کیا ستم و جور ناخدا کہیے
- کیا تنگ ہم ستم زدگاں کا جہان ہے
- واحسرتا کہ یار نے کھینچا ستم سے ہاتھ
- ان ستم کیشوں کے کھائے ہیں زبس تیر نگاہ
- مگر ستم زدہ ہوں ذوق خامہ فرسا کا
- لیوے نہ کوئی نام ستم گر کہے بغیر
- وہ ہم سے بھی زیادہ خستۂ تیغ ستم نکلے
- ہم کو ستم عزیز ستم گر کو ہم عزیز
- دشواریٔ رہ و ستم ہم رہاں نہ پوچھ
- نہ ستم کر اب تو مجھ پر کہ وہ دن گئے کہ ہاں تھی
- کہ ستم کش جنوں ہوں نہ بقدر زندگانی
- ہے اسیر ستم کشمکش دام وفا
- ستم ہے کشتۂ تیغ جفا کہیں اس کو
- ذرا کر زور سینے پر کہ تیر پر ستم نکلے