سبب
19 Misre
- ہم اور وہ بے سبب رنج آشنا دشمن کہ رکھتا ہے
- گرمی ہے زباں کی سبب سوختن جاں
- خواہش دل ہے زیاں کو سبب گفت و بیاں
- دم تیغ توکل سے اگر پاے سبب کاٹے
- فکر پرواز جنوں ہے سبب ضبط نہ پوچھ
- سبب ہے ناخن دخل عزیزاں سینہ خستن کا
- سبب وارستگاں کو ننگ ہمت ہے خداوندا
- نہیں ہے بے سبب قطرے کو شکل گوہر افسردن
- حوصلہ تنگ نہ کر بے سبب آزاروں کا
- ہجوم ریزش خوں کے سبب رنگ اڑ نہیں سکتا
- یوں عاشقوں میں ہے سبب اعتبار داغ
- گرمی ہے زباں کی سبب سوختن جاں
- ہم اور وہ بے سبب رنج آشنا دشمن کہ رکھتا ہے
- بے سبب ہوا غالبؔ دشمن آسماں اپنا
- سبب کیا خواب میں آ کر تبسم ہائے پنہاں کا
- ہجوم ریزش خوں کے سبب رنگ اڑ نہیں سکتا
- بے خودی بے سبب نہیں غالبؔ
- رکتا ہوں تم کو بے سبب آزار دیکھ کر
- خستگی کا ہو بھلا جس کے سبب سے سر دست