سب
40 Misre
- جاتا ہوں جدھر سب کی اٹھے ہے ادھر انگشت
- ساقیا دے ایک ہی ساغر میں سب کو مے کہ آج
- ورنہ جو چاہیے اسباب تمنا سب تھا
- جاتا ہوں جدھر سب کی اٹھے ہے ادھر انگشت
- ایسا بھی کوئی ہے کہ سب اچھا کہیں جسے
- بے اعتدالیوں سے سبک سب میں ہم ہوئے
- سنتے ہیں جو بہشت کی تعریف سب درست
- سب کو مقبول ہے دعویٰ تری یکتائی کا
- کہ بن کہے ہی انہیں سب خبر ہے کیا کہئے
- سب کہاں کچھ لالہ و گل میں نمایاں ہو گئیں
- سب رقیبوں سے ہوں نا خوش پر زنان مصر سے
- سب لکیریں ہاتھ کی گویا رگ جاں ہو گئیں
- انداز نالہ یاد ہیں سب مجھ کو پر اسدؔ
- کیا فرض ہے کہ سب کو ملے ایک سا جواب
- ہنس کے بلوائیے مٹ جائے گا سب دل کا گلہ
- ہو چکیں غالبؔ بلائیں سب تمام
- کہتے تو ہو تم سب کہ بت غالیہ مو آئے
- سب کے دل میں ہے جگہ تیری جو تو راضی ہوا
- ظاہر ہے تیرا حال سب ان پر کہے بغیر
- گو ایک بادشاہ کے سب خانہ زاد ہیں
- پھیلا ہے سب جہان میں یہ میوہ دور دور
- کہ جس کے دیکھے سے سب کا ہوا ہے جی محظوظ
- سب کو اس کا سواد ارزانی
- تین مسہل تین تبریدیں یہ سب کے دن ہوے
- ایک میں کیا کہ سب نے جان لیا
- کہہ چکا میں تو سب کچھ اب تو کہہ
- سب صورتیں بدل گئیں ناگاہ یک قلم
- یہ جتنے سینکڑے ہیں سب ہزار ہو جاویں
- سب نے جانا کہ ہے پری توسن
- کہ جن و انس و ملک سب بجا کہیں اس کو
- دو رنگیاں یہ زمانے کی جیتے جی ہیں سب
- ہنستے ہیں دیکھ دیکھ کے سب ناتواں مجھے
- نیش ہے وہ ڈنک جس کو سب کہیں
- جملہ سب اور نصف آدھا ربع پاؤ
- نرخ قیمت اور بہا یہ سب ہیں مول
- سب ہی پڑھتا کاش کیوں تکبیر آدھی رہ گئی
- سب سے یہ گوشہ کنارے ہے گلے لگ جا مرے
- کچھ نہیں کہتا کسی سے سن رہا ہوں سب کی بات
- شام سے آتے تو کیا اچھی گزرتی رات سب
- جان کی پاؤں اماں باتیں یہ سب سچ ہیں مگر