سایہ
18 Misre
- اختر کو داغ سایہ بال ہما کہوں
- سایہ آسا ہوگیا ہے پایمال
- بہر پروردن سراسر لطف گستر سایہ ہے
- برنگ سایہ سروکار انتظار نہ پوچھ
- نہیں ہے سایہ کہ سن کر نوید مقدم یار
- سایہ کی طرح ساتھ پھریں سرو و صنوبر
- سایہ میرا مجھ سے مثل دود بھاگے ہے اسدؔ
- بہ رنگ سایہ ہمیں بندگی میں ہے تسلیم
- مسجد کے زیر سایہ خرابات چاہیے
- صورت دود رہا سایہ گریزاں مجھ سے
- سایہ خورشید قیامت میں ہے پنہاں مجھ سے
- آسماں ہے گداے سایہ نشیں
- سایہ اس کا ہما کا سایہ ہے
- خلق پر وہ خدا کا سایہ ہے
- اے مفیض وجود سایہ و نور
- جب تلک ہے نمود سایہ و نور
- مسجد کے زیر سایہ اک گھر بنا لیا ہے
- شاخ ٹہنی برگ پتا سایہ چھانو