سامان
23 Misre
- ہم نشینی رقیباں گرچہ ہے سامان رشک
- ترحم میں ستم کوشوں کے ہے سامان خونریزی
- برق سامان نظر ہے جلوۂ بے باک حسن
- دام گاہ عجز میں سامان آسایش کہاں
- نے صبا بال پری نے شعلہ سامان جنوں
- محو آرامیدگی سامان بیتابی کرے
- شرر فرصت نگہ سامان یک عالم چراغاں ہے
- نہاں کیفیت مے میں ہے سامان حجاب اس کا
- سامان دعا وحشت و تاثیر دعا ہیچ
- گرہ غنچۂ ہے سامان چمن بالیدن
- شوق سامان فضولی ہے وگرنہ غالب
- پریشانی اسدؔ در پردہ ہے سامان جمعیّت
- ہجوم گریہ کا سامان کب کیا میں نے
- گرد راہ یار ہے سامان ناز زخم دل
- شرر فرصت نگہ سامان یک عالم چراغاں ہے
- صفاۓ حیرت آئینہ ہے سامان زنگ آخر
- نہ کی سامان عیش و جاہ نے تدبیر وحشت کی
- ہے تجلی تری سامان وجود
- سامان صدہزار نمکداں کیے ہوئے
- رشتۂ پا یاں نوا سامان بند ساز ہے
- دو عالم آگہی سامان یک خواب پریشاں ہے
- سامان ہزار جستجو یعنی دل
- سامان خور و خواب کہاں سے لاؤں