ساقی
48 Misre
- ساقی بہار موسم گل ہے سرور بخش
- اے خوشا وقتے کہ ساقی یک خمستاں وا کرے
- جہاں ساقی ہو تو باطل ہے دعویٰ ہوشیاری کا
- خوشترز گل و غنچہ چشم و دل ساقی ہے
- ہے ہوس محمل بدوش شوخی ساقی مست
- اسدؔ ہوں مست دریا بخشی ساقی کوثر کا
- بے ولاے ساقی کوثر کشیدن منع ہے
- ساقی و تعلیم رنج محفل و تمکیں گراں
- بہ قدر ظرف ہے ساقی خمار تشنہ کامی بھی
- نہ حیرت چشم ساقی کی نہ صحبت دور ساغر کی
- بہ عشق ساقی کوثر بہار بادہ پیمائی
- بنا ہے پنبۂ سینا سے ساقی نے نقاب اس کا
- دریاے مے ہے ساقی لیکن خمار باقی
- ہو جہاں وہ ساقی خرشید رو مجلس فروز
- یعنی دماغ غفلت ساقی رسیدہ تر
- ساقی نے از بہر گریباں چاکی موج بادۂ ناب
- تاب عرض تشنگی اے ساقی کوثر نہیں
- لے گئی ساقی کی نخوت قلزم آشامی مری
- مئے عشرت کی خواہش ساقی گردوں سے کیا کیجے
- ساقی گری کی شرم کرو آج ورنہ ہم
- ہے یاس میں اسدؔ کو ساقی سے بھی فراغت
- ہے مکرر لب ساقی پہ صلا میرے بعد
- بقدر ظرف ہے ساقی خمار تشنہ کامی بھی
- شب خمار شوق ساقی رستخیز اندازہ تھا
- دیدار بادہ حوصلہ ساقی نگاہ مست
- ساقی بہ جلوہ دشمن ایمان و آگہی
- لطف خرام ساقی و ذوق صدائے چنگ
- کہتے ہوئے ساقی سے حیا آتی ہے ورنہ
- جہاں ساقی ہو تو باطل ہے دعویٰ ہوشیاری کا
- مستی بہ ذوق غفلت ساقی ہلاک ہے
- ساقی نے کچھ ملا نہ دیا ہو شراب میں
- گر میں نے کی تھی توبہ ساقی کو کیا ہوا تھا
- خمار منت ساقی اگر یہی ہے اسدؔ
- غرور لطف ساقی نشۂ بیباکی مستاں
- ایک دن گر نہ ہوا بزم میں ساقی نہ سہی
- پلا دے اوک سے ساقی جو ہم سے نفرت ہے
- یہ سوء ظن ہے ساقی کوثر کے باب میں
- دل و دیں نقد لا ساقی سے گر سودا کیا چاہے
- خط رخسار ساقی تا خط ساغر چراغاں ہے
- تغافل ہائے ساقی کا گلہ کیا
- ساقی بہار موسم گل ہے سرور بخش
- کہاں ہے ساقی مہوش کہاں ہے ابر مطیر
- حسرت جلوۂ ساقی ہے کہ ہر پارۂ ابر
- بہ نظر گاہ گلستان خیال ساقی
- جوش طوفان کرم ساقی کوثر ساغر
- جلوہ ہے ساقی مخموری تاب دیوار
- تو وہ ساقی ہے کہ ہر موج محیط تنزیہہ
- لا کے ساقی نے صبوحی کے لیے