ساغر
60 Misre
- حسرت کشوں کو ساغر و مینا نہ چاہیے
- اسدؔ ساغر کش تسلیم ہو گردش سے گردوں کی
- حیرت آغوش خوباں ساغر بلور ہے
- دور ساغر یک گلستاں برگ ریز تاک ہے
- ساغر بہ بارگاہ دماغ رسیدہ کھینچ
- تسکیں دہ صد محفل یک ساغر خالی ہے
- دریغا گردش آموز فلک ہے دور ساغر کا
- گردش میں لا تجلی صد ساغر تسلی
- وحشت بہار نشہ و گل ساغر شراب
- کہ بعد از صاف مے ساغر میں دردبادہ آتا ہے
- سیلی استاد ہے ساغر بے مل ہنوز
- ساغر جلوۂ سرشار ہے ہر ذرۂ خاک
- ساقیا دے ایک ہی ساغر میں سب کو مے کہ آج
- خمیازہ ساغر مے رنج خمار ہے
- نہ حیرت چشم ساقی کی نہ صحبت دور ساغر کی
- عبث ہے خط ساغر جلوہ طوق گردن قمری
- جنون بیکسی ساغر کش داغ پلنگ آیا
- کہ مے عکس شفق ہے اور ساغر ہے حباب اس کا
- نے سبحہ سے علاقہ نہ ساغر سے واسطہ
- دوران سر سے گردش ساغر ہے متصل
- خمیازہ طرب ساغر زخم جگر آوے
- ہر ذرہ بہ کیفیت ساغر نظر آوے
- حباب مے بصد بالیدنی ساغر نہیں ہوتا
- جادۂ منزل ہے خط ساغر مل کے تلے
- مہ حریف نازش ہم چشمی ساغر نہیں
- بہ ہنگام تصور ساغر زانو سے پیتا ہوں
- دیدۂ پر خوں ہمارا ساغر سرشار دوست
- رہنے دو ابھی ساغر و مینا مرے آگے
- ساغر جم سے مرا جام سفال اچھا ہے
- انسان ہوں پیالہ و ساغر نہیں ہوں میں
- دل گزر گاہ خیال مے و ساغر ہی سہی
- ذرہ ذرہ ساغر مے خانۂ نیرنگ ہے
- ساغر جلوۂ سرشار ہے ہر ذرۂ خاک
- آج رنگ رفتہ دور گردش ساغر ہوا
- اسدؔ ساغر کش تسلیم ہو گردش سے گردوں کی
- اگر شراب نہیں انتظار ساغر کھینچ
- بہ کوری دل و چشم رقیب ساغر کھینچ
- دل گداختہ کے میکدے میں ساغر کھینچ
- ہوئی مجلس کی گرمی سے روانی دور ساغر کی
- برنگ موج مے خمیازۂ ساغر ہے رم میرا
- موئے شیشہ دیدۂ ساغر کی مژگانی کرے
- نشہ بخشا غضب اس ساغر خالی نے مجھے
- بنتی نہیں ہے بادہ و ساغر کہے بغیر
- کہ اس بازار میں ساغر متاع دست گرداں ہے
- خط رخسار ساقی تا خط ساغر چراغاں ہے
- گردش ساغر صد جلوۂ رنگیں تجھ سے
- مہ حریف نازش ہم چشمیٔ ساغر نہیں
- حسرت کشوں کو ساغر و مینا نہ چاہیے
- درد یک ساغر غفلت ہے چہ دنیا و چہ دیں
- نور مے ماہ ساغر سیمیں
- کس قدر عرض کروں ساغر شبنم یارب
- کہ ہوا ساغر بے حوصلۂ دل سرشار
- جوش طوفان کرم ساقی کوثر ساغر
- کھینچے خمیازے میں تیرے لب ساغر کا خمار
- ابر میخانہ کریں ساغر خرشید شکار
- دل آئینہ طرب ساغر بخت بیدار
- فیض معنی سے خط ساغر راقم سرشار
- بادۂ گلرنگ کا ساغر کھلا
- ساغر کش خون آرزو یعنی دل
- ایام جوانی رہے ساغر کش حال