ساز
64 Misre
- اے نوا ساز تماشا سربکف جلتا ہوں میں
- گراں جانی سبک ساز و تماشا بے دماغ آیا
- مہ و خرشید باہم ساز یک خواب پریشاں ہیں
- حیرت فکر سخن ساز سلامت ہے اسدؔ
- فرصت نشوونما ساز شکیبائی نہیں
- مت رکھ اے انجام غافل ساز ہستی پر غرور
- کو یک شرر کہ ساز چراغاں کروں اسدؔ
- مری فریاد کو کہسار ساز عجز نالی ہے
- موزونی دو عالم قربان ساز یک درد
- شوق بے پروا کے ہاتھوں مثل ساز نا درست
- ہر رنگ سوز پردۂ یک ساز ہے مجھے
- دل کی صداے شکست ساز طرب ہے اسدؔ
- شاعری جز ساز درویشی نہیں حاصل نہ پوچھ
- نغمہ ہے محو ساز رہ نشہ ہے بے نیاز رہ
- کو یک شرر کہ ساز چراغاں کروں اسدؔ
- مجھ میں اور مجنوں میں وحشت ساز دعوا ہے اسدؔ
- ساز وحشت رقمی ہا کہ باظہار اسدؔ
- محبت بے نوا ساز فغاں در پردۂ دل ہا
- خانۂ عاشق مگر ساز صداے آب تھا
- شکست ساز خیال آں سوے گریوۂ غم
- ساز پر رشتہ پئے نغمۂ بیدل باندھا
- واں ہجوم نغمہ ہاے ساز عشرت تھا اسدؔ
- خانۂ عاشق مگر ساز صدائے آب تھا
- نغمۂ بے دلاں اسدؔ ساز فسانگی نہیں
- ساز عیش بے دلی ہے خانہ ویرانی مجھے
- نشہ ہا شاداب رنگ و ساز ہا مست طرب
- غبار دشت وحشت سرمہ ساز انتظار آیا
- رونق ہستی ہے عشق خانہ ویراں ساز سے
- حیرت فکر سخن ساز سلامت ہے اسدؔ
- مری فریاد کو کہسار ساز عجز مالی ہے
- ساز پر رشتہ پئے نغمۂ بیدلؔ باندھا
- ہمہ عرض نا شکیبی ہمہ ساز جاں ستانی
- مگر ایک شہپر مور کرے ساز بادبانی
- نگاہ عکس فروش و خیال آئنہ ساز
- کہ مثل غنچہ ساز یک گلستاں دل مہیا ہو
- کرے کیا ساز بینش وہ شہید درد آگاہی
- واں ہجوم نغمہ ہائے ساز عشرت تھا اسدؔ
- کو یک شرر کہ ساز چراغاں کروں اسدؔ
- یاں ورنہ جو حجاب ہے پردہ ہے ساز کا
- ساز چمن طرازی داماں کیے ہوئے
- میں اور حظ وصل خدا ساز بات ہے
- نشہ ہا شاداب رنگ و ساز ہا مست طرب
- نہ گل نغمہ ہوں نہ پردۂ ساز
- ہوں سراپا ساز آہنگ شکایت کچھ نہ پوچھ
- ساز ایمائے فنا ہے عالم پیری اسدؔ
- پیکر عشاق ساز طالع نا ساز ہے
- رشتۂ پا یاں نوا سامان بند ساز ہے
- گل بہ کوہ از لالہ بزم ساز بیتابی
- تکلف ساز رسوائی ہے غافل شرم رعنائی
- بے صدا ہو جائے گا یہ ساز ہستی ایک دن
- دل ہر قطرہ ہے ساز انا البحر
- کوئی چارہ ساز ہوتا کوئی غم گسار ہوتا
- ہمہ عرض نا شکیبی ہمہ ساز جاں ستانی
- مگر ایک شہپر مور کرے ساز بادبانی
- رشتۂ ساز ازل ہے نگہ باز پسیں
- ساز یک ذرہ نہیں فیض چمن سے بے کار
- ساز عریانی کیفیت دل ہے لیکن
- کس قدر ساز دوعالم کو ملی جرأت ناز
- رشتۂ فیض ازل ساز طناب معمار
- اے منشی خیرہ سر سخن ساز نہ ہو
- ابریشم ساز موے چینی ہے مجھے
- ہاں دل دردمند زمزمہ ساز
- ساز باجا اور ہے آواز بانگ
- مستی چشم سیہ سے چل کے ہو ویں چارہ ساز