ساحل
16 Misre
- حریف جوشش دریا نہیں خودداری ساحل
- غبار کوچہ ہائے موج ہے خاشاک ساحل ہا
- قطرے سے میخانۂ دریاے بے ساحل نہ پوچھ
- گرد ساحل ہے نم شرم جبین آشنا
- دوست جو ساتھ مرے تا لب ساحل آئے
- جو تو دریاے مے ہے تو میں خمیازہ ہوں ساحل کا
- کوچۂ موج کو خمیازۂ ساحل باندھا
- گرد ساحل سنگ راہ جوشش دریا نہیں
- گرچہ دل کھول کے دریا کو بھی ساحل باندھا
- ہم نے دل کھول کے دریا کو بھی ساحل باندھا
- کوچۂ موج کو خمیازۂ ساحل باندھا
- دل تا جگر کہ ساحل دریائے خوں ہے اب
- گرد ساحل ہے بہ زخم موجۂ دریا نمک
- جو تو دریاۓ مے ہے تو میں خمیازہ ہوں ساحل کا
- حریف جوشش دریا نہیں خودداری ساحل
- غریق بحر جویائے خس و خاشاک ساحل ہے