ساتھ
17 Misre
- تامے کے ساتھ آگیا پیغام مرگ
- دوست جو ساتھ مرے تا لب ساحل آئے
- ساتھ حجاج کے اکثر کئی منزل آئے
- ساتھ جنبش کے بیک برخاستن طے ہوگیا
- مزا ملے کہو کیا خاک ساتھ سونے کا
- سایہ کی طرح ساتھ پھریں سرو و صنوبر
- ہو لیے کیوں نامہ بر کے ساتھ ساتھ
- مقدور ہو تو ساتھ رکھوں نوحہ گر کو میں
- چلتا ہوں تھوڑی دور ہر اک تیز رو کے ساتھ
- رات کے وقت مے پیے ساتھ رقیب کو لیے
- غالبؔ گر اس سفر میں مجھے ساتھ لے چلیں
- کیجے ہمارے ساتھ عداوت ہی کیوں نہ ہو
- بک جاتے ہیں ہم آپ متاع سخن کے ساتھ
- آتا ہے ایک پارۂ دل ہر فغاں کے ساتھ
- ہر ایک قطرے کے ساتھ آئے جو ملک وہ کہے
- یہ چاہتا ہے کہ دنیا میں عز و جاہ کے ساتھ
- آواز تری نکلے اور آواز کے ساتھ