سا
29 Misre
- ہر تار زلف کو نگہ سرمہ سا کہوں
- ہاتھ آیا زخم تیغ یار سا پہلو نشیں
- تکلف بر طرف مل جائے گا تجھ سا رقیب آخر
- دشنہ اک تیز سا ہوتا مرے غم خوار کے پاس
- جوں جادہ گر درہ سے نگہ سرمہ سا کروں
- اک گھر میں مختصر سا بیاباں ضرور تھا
- آئینہ دیکھ اپنا سا منہ لے کے رہ گئے
- آئینہ دیکھ اپنا سا منہ لے کے رہ گئے
- اک گھر میں مختصر سا بیاباں ضرور تھا
- ایسا کہاں سے لاؤں کہ تجھ سا کہیں جسے
- ہے خیال حسن میں حسن عمل کا سا خیال
- نگاہ دل سے ترے سرمہ سا نکلتی ہے
- در خور قہر و غضب جب کوئی ہم سا نہ ہوا
- پھر غلط کیا ہے کہ ہم سا کوئی پیدا نہ ہوا
- نگہ چشم سرمہ سا کیا ہے
- مجھ سا کافر کہ جو ممنون معاصی نہ ہوا
- بے در و دیوار سا اک گھر بنایا چاہیے
- تکلف بر طرف مل جائے گا تجھ سا رقیب آخر
- کیا غم ہے اس کو جس کا علیؔ سا امام ہو
- آستاں پر ترے مہ ناصیہ سا ہوتا ہے
- ہر تار زلف کو نگۂ سرمہ سا کہوں
- جوں جادہ گرد رہ سے نگہ سرمہ سا کروں
- کیا فرض ہے کہ سب کو ملے ایک سا جواب
- دشنہ اک تیز سا ہوتا مرے غم خوار کے پاس
- جسے نصیب ہو روز سیاہ میرا سا
- کہ ہوا مجھ سا ذرہ ناچیز
- آج مجھ سا نہیں زمانے میں
- کون ہے جس کے در پہ ناصبہ سا
- تو یوسف سا حسیں بکنے سر بازار آتا ہے